ذبح کی اقسام
ذکاۃ شرعی دوقسم ہے
(۱)اختیاری اور(۲)اضطراری۔
ذکاۃ اختیاری کی دو قسمیں ہیں۔
(۱) ذبح اور (۲) نحر۔
ذکاۃ اضطراری یہ ہے کہ جانورکے بدن میں کسی جگہ نیزہ وغیرہ بھونک کر خون نکال دیا جائے اس سے مخصوص صورتوں میں جانورحلال ہوتاہے جوبیان کی جائیں گی۔
حلق کے آخری حصہ میں نیزہ وغیرہ بھونک کر (داخل کر کے)رگیں کاٹ دینے کونحرکہتے ہیں۔
ذبح کی جگہ حلق اورلبہ کے مابین ہے لبہ سینہ کے بالائی حصہ کوکہتے ہیں۔
اونٹ کونحرکرنااورگائے بکری وغیرہ کوذبح کرناسنت ہے اوراگراس کاعکس کیایعنی اونٹ کوذبح کیااورگائے وغیرہ کونحرکیاتوجانوراس صورت میں بھی حلال ہوجائے گامگرایساکرنامکروہ ہے کہ سنت کے خلاف ہے‘‘۔
(بہار شریعت ج3،حصہ15، ص312)
خیال رہے کہ:
’’ذبح اختیاری میں شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والاذبح کے وقت بسم اﷲ پڑھے یہاں مذبوح پربسم اﷲ پڑھی جاتی ہے یعنی جس جانورکوذبح کرنے کے لئے بسم اﷲ پڑھی اسی کوذبح کرسکتے ہیں دوسراجانوراس تسمیہ سے حلال نہ ہوگا مثلاًبکری ذبح کرنے کے لئے لٹائی اوراس کے ذبح کرنے کوبسم اﷲ پڑھی مگر اس کوذبح نہیں کیابلکہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کردی یہ حلال نہیں ہوئی،یہ ضروری نہیں کہ جس چھری سے ذبح کرناچاہتاتھااوربسم اﷲ پڑھ لی تو اسی سے ذبح کرے بلکہ دوسری چھری سے بھی ذبح کرسکتا ہے اورشکار کرنے میں آلہ پربسم اﷲ پڑھی جاتی ہے یعنی اسی آلہ سے شکارکرناہوگادوسرے سے کرے گاحلال نہ ہوگامثلاًتیر چھوڑناچاہتاہے اوربسم اﷲ پڑھی مگراس کورکھ دیا دوسراتیرچلایاتوجانورحلال نہیں اوراگرجس جانورکوتیرسے مارناچاہتاہے اس کوتیر نہیں لگادوسراجانوراس تیرسے ماراتویہ حلال ہے۔
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)
(ہدایہ، ج4،ص434)