سوال: اگرکوئی اپنی لاعلمی کی وجہ سےیہ عقیدہ رکھتا تھاکہ :”اللہ نےجو تقدیر میں لکھاہےبندہ ویسا کرنے پر مجبور ہے۔”پھر کتابوں کو پڑھنے کے بعد پتہ چلاکہ جو انسان کرنے والا تھا اللہ نے ویسا لکھ دیااب پہلے عقیدے سے توبہ کرچکا ہے۔تو کیا اس عقیدے رکھنے کی وجہ سے وہ کافر ہوگیاتھااوراس پر تجدید نکاح لازم ہے؟
جواب: ”اللہ تعالی نے تقدیر میں جو لکھا ہے بندہ ویساکرنے پر مجبور ہے“ایساعقیدہ رکھنے سے بندہ کافرنہیں ہوتا، البتہ بندے کے بالکل مجبورہونے کاعقیدہ رکھنا، گمراہی ضرور ہے۔ایسااعتقادرکھنے والے پراپنے عقیدے کو درست کرنا ،اور توبہ کرنا لازم ہے۔ تجدید نکاح لازم نہیں ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم