شہریوں کونمازعیدسے پہلے قربانی کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟

 سوال:شہریوں کونمازعیدسے پہلے قربانی کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟

جواب :شہریوں کوامام کے نمازِعیدپڑھنے سے پہلے قربانی کرنے کی ممانعت چونکہ احادیثِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہے اس لئے فقہائے کرام نے بھی اس سے منع فرمادیا۔

        صحیح بخاری میں ہے :

       ’’عن البراء قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخطب فقال ان اوّل ما نبداء من یومنا ھذا ان نصلی ثم نرجع فننحر فمن فعل فقد اصاب سنتناومن نحر فانما ھو لحم یقدمہ لاھلہ لیس من النسک فی شیئِِ ‘‘

       حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا پہلی چیز جس سے آج ہم ابتداء کریں گے یہ ہے کہ ہم نماز ادا کریں گے پھر ہم لوٹیں گے پھرذبح کریں گے پس جس نے اس طریقہ کواپنایااس نے ہماری سنت کوپالیا اور جس نے اس کے خلاف کیاتووہ صرف گوشت ہی ہے جواس نے اپنے گھر والوں کے لئے پہلے تیارکرلیاقربانی سے اسے کچھ تعلق نہیں۔

(صحیح البخاری،ج 2،ص834)

       ہدایہ میں ہے:

        نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:

       ’’من ذبح قبل الصلوٰۃ فلیعدذبیحتہ ومن ذبح بعدالصلوٰۃ فقدتم نسکہ واصاب سنۃ المسلمین وقال علیہ السلام ان اوّل نسکنا فی ھذاالیوم الصلوٰۃ ثم الاضحیۃ‘‘

       جس نے ذبح کیانمازعیدسے پہلے تووہ اپنے ذبیحہ کااعادہ کرے (یعنی دوبارہ قربانی کرے)اورجس نے ذبح کیانمازِعیدکے بعدپس اس کی قربانی تام ہوگئی اوراس نے مسلمانوں کے طریقے کوپالیا۔اورفرمایانبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کہ ہماراپہلاکام آج کے دن نمازہے پھرقربانی کرنا۔     (ہدایہ،ج4،ص446)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے