سوال:سات حصوں والے جانورمیں اگرشرکت کرکے قربانی کی گئی تواس کے گوشت کی تقسیم کس طرح کی جائے گی؟
جواب:شرکت میں گائے کی قربانی کی گئی توضروری ہے کہ گوشت تمام حصہ داروں میں وزن کرکے برابر تقسیم کیاجائے،اندازے سے تقسیم کرناجائزنہیں کہ گوشت وزنی اشیاء میں سے ہے،اوربخوشی ایک دوسرے کوکم زیادہ معاف کردینابھی کافی نہیں۔کیونکہ اندازے سے تقسیم کرنے میں’’مبادلۃ المال بالمال‘‘یعنی بیع کے معنی پائے جاتے ہیں،اگرچہ حصہ داروں میں سے بعض،بعض دوسروں کوزیادہ جانے والاگوشت معاف کردیں۔
اوربدائع میں اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ گوشت اموالِ ربا(یعنی سودی اموال)میں سے ہے اوراس میں معنیٔ ربابھی پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں سے ایک دوسرے کو زیادتی کا مالک بنانابھی جائزنہیں ۔
تنویر الابصار میں ہے:
’’ویقسم اللحم وزناً لاجزافاً‘‘
یعنی شرکت پر قربانی کی جائے توگوشت کوباعتبارِوزن کے تقسیم کیاجائے نہ کہ اندازے سے ۔
مذکورہ عبارت کے تحت ردالمحتارمیں ہے:
’’واما عدم جواز القسمۃ مجازفۃ فلان فیھا معنی التملیک واللحم من اموال الربا فلا یجوز تملیکہ مجازفۃ واماعدم جوازالتحلیل فلأن الربالایحتمل الحل بالتحلیل،ولأنہ فی معنی الھبۃ وھبۃ المشاع فیما یحتمل القسمۃ لایصح اھ‘‘
یعنی اوربہرحال اندازے سے گوشت کوتقسیم کرنے کاعدمِ جوازاس وجہ سے ہے کہ اس میں تملیک کے معنی پائے جاتے ہیں اورگوشت اموالِ ربامیں سے ہے تواس کواندازے سے مالک بناناجائزنہیں۔اورحیلے کاعدمِ جواز(یعنی اگرحیلہ کرتے ہوئے کمی بیشی کوایک دوسرے کے لئے حلال کردیں توبھی جائزنہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ)ربا(سود)حیلے کے ذریعے حلت کااحتمال نہیں رکھتا،اوراس وجہ سے بھی کہ اس کے میں ہبہ کے معنی پائے جاتے ہیں اورایسی مشاع چیز کاہبہ کرناجائز نہیں جوکہ قا بل تقسیم ہو۔
(ردالمحتار مع درمختار، ج9،ص460)
البنایہ فی شرح الھدایہ میں ہے:
’’واذاجازذبح الاضحیۃ علی الشرکۃ فقسمۃ لحمہالایکون الابالوزن،لانہ موزون ای لان اللحم موزون ولواقتسمواجزافاً لایجوزلان فی القسمۃ معنی التملیک فلم تجزمجازفۃ عندوجودالجنس والوزن لاحتمال الربا‘‘
اورجب قربانی کے جانورکوذبح کرنابطورِشرکت کے جائزہے توایسے میں گوشت کی تقسیم کاری بھی صرف وزن کے ساتھ ہوگی کیونکہ گوشت کاشماروزن والی چیزوں کے ساتھ ہوتاہے اوراگرشرکاء اندازے سے تقسیم کاری کریں تو وہ جائز نہ ہوگی کیونکہ تقسیم کاری کے ذریعے مالک بنانا ہوتا ہے اور وہ(تقسیم کاری)جب جنس اور وزن دونوں پائیں جائیںاندازے سے جائز نہیں ہوتی کیونکہ اس صورت میں سود کا احتمال موجود ہوتا ہے۔
(البنایہ،کتاب الاضحیۃ،ج11،ص20)
بہارِشریعت میں ہے:
’’شرکت میں گائے کی قربانی ہوئی توضروری ہے کہ گوشت وزن کرکے تقسیم کیاجائے اندازہ سے تقسیم نہ ہوکیوں کہ ہوسکتا ہے کہ کسی کوزائدیاکم ملے اوریہ ناجائز ہے یہاں یہ خیال نہ کیاجائے کہ کم وبیش ہوگاتوہرایک اس کو دوسرے کے لئے جائزکردے گاکہہ دے گاکہ اگرکسی کوزائدپہنچاگیاہے تومعاف کیاکہ یہاں عدم جوازحق شرع ہے اوران کواس کے معاف کرنے کاحق نہیں۔‘‘
(بہار شریعت ،ج 2،حصہ15 ،ص335)