قربانی کے جانوروں کابیان

قربانی کے جانوروں کابیان

 

سوال: قربانی کے جانورکتنی اقسام کے ہوتے ہیں؟

 جواب: قربانی کے جانوروں کی تین اقسام ہیں ۔

1:بکری ، 2: گائے ، 3:اونٹ۔

       ہدایہ میں ہے:

       ’’والا ضحیۃ من الابل والبقر والغنم لانھا عرفت شرعا‘‘

       اوراضحیہ(یعنی قربانی کے جانوروں میں سے)اونٹ،گائے،اوربکری ہیں۔اس وجہ سے کہ شرعاًیہی معروف ہیں۔

(ہدایہ ،ج4،ص449) 

       ٭بکری میں اس کی تمام اقسام شامل ہیں مثلاًنر،مادہ،خصی اورغیرخصی ،بھیڑاوردنبہ سب اس میں شامل ہیں۔اوربیل،بھینس گائے میں شمارہیں ان کی بھی قربانی ہوسکتی ہے جیساکہ عنقریب ان کی تفصیل آئے گی۔

(1)قربانی کے لیے بکرے کی عمر

       بکرایابکری کی عمرایک سال ہونی چاہئے۔ایک سال سے کم عمر کی قربانی جائزنہیں۔

       درمختارمیں ہے:

       ’’صح ابن خمس من الابل۔وحولین من البقر والجاموس وحول من الشاۃ والمعز‘‘

       یعنی پانچ سال کااونٹ،دوسال کی گائے اوربھینس،اورایک سال کی بکری اوربھیڑ،کی قربانی صحیح ہے۔

(درمختار،کتاب الاضحیۃ،ج9،ص533)

قربانی کے جانور کتنی اقسام کے ہوتے ہیں؟

قربانی کے لیے بھیڑ یا دنبے کی عمر

       دنبہ یابھیڑکا6ماہ کابچہ اگراتنابڑاہوکہ سال والوں کے ساتھ ملاکرکھڑاکیاجائے تودورسے دیکھنے میں سال بھرکامعلوم ہوتواسکی قربانی جائزہے۔

       ابوداؤدشریف میں ہے:

       عاصم بن کلیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ

       ’’قال کنامع رجل من اصحاب ا لنبی صلی اللہ علیہ وسلم یقال لہ مجاشع من بنی سلیم فعزت الغنم فا مر منادیا فنادٰی ان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کان یقول ان الجذع یوفی منہ الثنی‘‘

       ترجمہ:فرمایاکہ ہم اصحابِ رسول میں سے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے،جوکہ بنی سلیم سے تعلق رکھتے تھے،ان دنوں بکریاں گراں قیمت تھیں،ان صاحب نے ایک منادی کوحکم دیااوراس نے اعلان کرناشروع کردیاکہ’’نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں جذعہ(چھ ماہ کادنبہ)ایک سالہ بکری کے برابرہے۔                                                                                                 (سنن ابی داؤد ،ج 2 ،ص38)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

قربانی کے لیے بھیڑ یا دنبے میں ضروری شرط

       چھ ماہ کے دنبے یابھیرکی قربانی کرنے میں یہ ضروری ہے کہ وہ اتنافربہ اورقدآورہوکہ سال والوں کے ساتھ دورسے دیکھنے میں سال بھرکالگے۔اگر6ماہ بلکہ سال میں ایک دن بھی کم عمر کادنبہ یابھیڑکابچہ دورسے دیکھنے میں سال بھر کانہیں لگتاتواس کی قربانی جائزنہیں ہوگی۔

       ہدایہ میں ہے :’’

       ’’وھٰذا اذا کانت عظیمۃ بحیث لو خلط بالثنیان یشتبہ علی الناظرمن بعید‘‘

       اوریہ اس وقت ہے کہ جب وہ(وہ چھ ماہ کابچہ)بڑاہو(دکھنے میں)اس حیثیت سے کہ اگراس کودوسرے سال والے دنبوں میں ملادیاجائے تودورسے دیکھنے والے پرمشتبہہ ہوجائے۔(کہ یہ چھ ماہ کاہے یاسال دوسال کا)۔

(ہدایہ، ج 4،ص449) 

       اوردرمختارمیں ہے:

       ’’و صح الجذع ذو ستۃ اشھر ان کان بحیث لو خلط بالثنایا لا یمکن التمیز من بعد‘‘

       اورجذع یعنی چھ ماہ کے دنبے کی قربانی صحیح ہے۔مگراس حیثیت سے کہ اگر اس کوثنایا(ایک سال کادنبہ)میں ملادیاجائے توبعدمیں امتیازممکن نہ ہو ۔‘‘

(درمختار، ج9 ،ص465)

       سیدی اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن بھیڑاوردنبہ کے ایک ہی نوع ہونے اوردونوں میں چھ ماہ کابچہ دکھنے میں سال والامعلوم ہوتوقربانی کے لئے جائز ہونے کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:

       ’’ششماہہ بھیڑ کی قربانی بلا شبہ جائزہے جبکہ یکسالہ ہم جنسوں میں دور سے متمیز نہ ہوسکے…یہی شرط دنبہ میں ہے،اوردنبہ اوربھیڑایک ہی نوع ہیں اوردونوں کاایک ہی حکم ہے،اس قدرمیں توکسی کوکلام ہوہی نہیں سکتاکہ جوازششماہہ کاحکم احادیثِ صحیحہ وکتب فقہیہ سب میں بلفظِ ضان واردہے۔‘‘

(فتاوی رضویہ ،ج20ص436)

       اوراسی میں فرماتے ہیں:

       ’’چھ مہینے تک کاایسافربہ مینڈھاکہ سال بھروالوں کے ساتھ ہوتودورسے تمیزنہ ہواس کی قربانی جائزہے اگرچہ خصی ہو۔اوربکراسال بھرسے کم کاجائزنہیں اگرچہ خصی ہو۔‘‘

(فتاوی رضویہ ،ج20ص442)

چھ ماہہ بکری کی قربانی اوراختیاراتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

       حضرتِ براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:

       ’’ضحی خال لی یقال لہ ابوبردہ قبل الصلوٰۃ فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شاتک شاۃ لحم فقال یارسول اللہ ان عندی داجناجذعۃ من المعزقال اذبحھاولاتصلح لغیرک‘‘

       یعنی فرماتے ہیں کہ میرے ماموں ابوبردہ نے نمازِعیدسے قبل ہی قربانی کرلی،تورسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ تیری بکری گوشت کے لئے ہے(یعنی قربانی نہیں ہوئی)توانہوں نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے پاس ایک چھ،سات ماہ کابکری کابچہ ہے،توآپ نے فرمایاکہ تواسے ذبح کرلے،تیرے علاوہ دوسروں کے لئے اتنی عمرکی بکری کی قربانی صحیح نہیں۔‘‘                                                                             (بخاری ،ج2،ص833،834)

       ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:

       ’’ولاتجزی عن احدبعدک‘‘

       یعنی تیرے بعدکسی اورکے لئے اتنی عمرکاجانورقربانی کے لئے دیناجائزنہیں۔‘‘

(مسلم،ج2ص154،ترمذی ،ج1ص409،بخاری،ابوداؤد)

       یعنی یہ صرف تیرے لئے رخصت ہے ،کسی اورکیلئے جائزنہیں۔اس سے یہ معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کویہ اختیاردیاگیاہے کہ آپ جس کیلئے چاہیں شریعت کاحکم خاص فرمادیں۔

       چنانچہ ارشادالساری شرح بخاری میں اس حدیث کے تحت لکھاہے:

       ’’خصوصیۃ لہ لاتکون لغیرہ اذکان لہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان یخص من شآء بمن شآء من الاحکام‘‘

       یعنی حضورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کیلئے درست نہیں کہ بکری چھ ماہ کے جانورکی قربانی کی اجازت دے سکے،یہ صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خصوصیت واختیارہے،کسی اورکانہیں ہے۔

(ارشاد الساری شرح صحیح البخاری،ج2،ص657 )

       نیزحدیث صحیحین میں عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے حضورسید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کوقربانی کے لئے جانورعطافرمائے ان کے حصے میں ششماہہ بکری آئی حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حال عرض کیا۔توآپ فرمایا:’’ضح بھا‘‘تم اسی کی قربانی کردو۔                                                              (مسلم،ج2ص155،بخاری،ج2ص833)

       سنن بیہقی میں بسندصحیح اتنااورزائدہے:

       ’’ولارخصۃ فیھا لاحد بعدک‘‘

       یعنی تمہارے بعداورکسی کے لیے اس میں رخصت نہیں‘‘۔

(سنن کبری،ج12،ص309)

       اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:

       ’’اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کویہ حق حاصل ہے کہ بعض احکام اشخاص کے لئے خاص کردیں کیونکہ جملہ احکام قولِ صحیح کے مطابق آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سپردکردئیے گئے ہیں‘‘ ۔

(اشعۃ اللمعات،ج2،ص686)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے