قصر نمازیں مکمل ادا کرتا رہا، تو کیا حکم ہے؟

سوال:  مسافر پر قصر نماز لازم تھی لیکن اس نے لاعلمی میں  پوری نمازیں پڑھ لیں ،تو کیا اس کو پوری نمازیں لوٹانی پڑیں گی اور اس کو ان کی تعداد بھی یاد نہیں، تو اس کے لئے کیا حکم ہوگا؟

جواب:  پوچھی گئی صورت میں جتنی نمازوں میں قصر پڑھنا واجب تھا اور ان کو مکمل پڑھا اور  دو پر قعدہ  بھی کیا تھا  تو   فرض ادا ہو گئے  مگر سلام میں تاخیر کی وجہ سے ایسی تمام نمازوں کو دوبارہ پڑھنا لازم ہے ۔ اور اگر دو رکعت پر قعدہ نہیں کیا تھا تو فرض ہی ادا نہ ہوئے ،ا یسی تمام نمازیں بطور قضا دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔ اگر متعین تعداد معلوم نہیں تو ظنِ غالب کا اعتبار کرتے ہوئے اتنی نمازیں دوبارہ پڑھنا یا قضا کرنا لازم ہے جس سے یقینی طور پر برئ  الذمہ ہو جائے۔نیز مسئلہ نہ سیکھنے  کی وجہ سے گنہگار ہوا ، اس سے بھی توبہ کرے۔

   اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”جس پرشرعاً قصر ہےاور اس نےجہلاً (پوری) پڑھی اس پر مواخذہ ہے  اور اس نماز کاپھیرناواجب ۔“(فتاویٰ رضویہ ، جلد8،صفحہ 270، رضافاؤنڈیشن  لاھور )

   صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”مسافر پر واجب ہے کہ نماز میں قصر  کرے یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے اس کے حق میں دو ہی رکعتیں پوری نماز ہے اور قصداً چار پڑھیں اور دو پرقعدہ کیا تو فرض ادا ہوگئے اور پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئيں، مگر  گنہگار و مستحق ِنار ہوا کہ واجب ترک کیا،لہٰذا تو بہ کرے اور دو رکعت پرقعدہ نہ کیا، تو فرض ادا نہ ہوئےاور وہ نماز نفل ہوگئی۔“(بھار شریعت ،جلد 1  ، حصہ 4،صفحہ 743،مکتبۃ المدینہ  )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے