قعدۂ اخیرہ میں دعائے ماثورہ کی جگہ سورۂ فاتحہ پڑھنا

سوال: قعدۂ اخیرہ میں دعائے ماثورہ کی جگہ سورۂ فاتحہ پڑھ سکتے ہیں ؟

جواب: سورۂ فاتحہ بھی دعائے ماثورہ ہے کہ  یہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید کا حصہ   ہے  اور   حمد و ثناء  کےساتھ ساتھ دعا بھی ہے ،لہذا  قعدۂ  اخیرہ میں دعا کے طور پر  سورۂ فاتحہ   پڑھنا بھی جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ قعدہ ٔاخیرہ میں پڑھی جانے والی دعائے ماثورہ جو احادیث طیبہ میں بیان ہوئیں ،وہی پڑھی جائیں۔ 

   اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنت شاہ امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ جد الممتار میں سورۂ فاتحہ سے متعلق ایک مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے  ہیں:”انھا صالحۃ   لنیۃ الدعاء و الثناء “یعنی سورۂ فاتحہ دعا اور ثنا دونوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔(جد الممتار علی رد المحتار، جلد1 ، صفحہ 519، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

رمضان کے روزے کی فرضیت کاانکارکرناکیساہے ؟

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے