کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ نمازمیں سورہ فاتحہ اوراُس کے ساتھ تین آیتیں پڑھنے کاکیاحکم ہے؟یہ پوچھنے کامقصداس بات کی وضاحت طلب کرناہے کہ نمازمیں قراءت کرنافرض ہے اورقراءت میں سورہ فاتحہ اورتین آیتوں کی تلاوت کرناہوتاہے توان کی تلاوت کرنابھی فرض ہواحالانکہ امیراہلسنت دامت برکاتھم العالیۃ نےکتاب اسلامی بہنوں کی نماز،ص104پر”سورہ فاتحہ اورتین آیتیں پڑھنا” نمازکےواجبات میں شمارفرمایاہے ۔اس بارے میں تطبیق بیان فرمادیجیے۔ سائل:منظورعلی(جامعۃالمدینہ للبنات،سرجانی ٹاون، کراچی) |
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ |
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ |
تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ نماز میں قرآن کریم کی صرف ایک آیت( کسی سورت کی تخصیص کے بغیر)سورہ فاتحہ سے خواہ اس کے علاوہ کسی اورسورت سے پڑھنافرض ہےلہذااگرکوئی فقط ” اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ”پڑھ کررکوع میں چلاگیاتونمازکافرض اداہوگیالیکن واجبات رہ گئے اور نمازناقص ہوئی۔جبکہ پوری سورہ فاتحہ اوراس کے ساتھ تین چھوٹی چھوٹی آیتیں یاایک بڑی آیت جوتین چھوٹی آیتوں کے برابرہوپڑھنایہ دونوں مستقل طورپرالگ الگ واجب ہیں جس میں کمی ہوئی تونمازہوجائے گی یعنی فرض اداہوجائے گا لیکن ترک واجب کی وجہ سے نقص لازم آئے گا پھر اگر یہ ترک واجب بھول کرہوا تو سجدہ سہو واجب ہوگا اورسجدہ سہو سے نماز مکمل ہوجائے گی اور قصداترک کیاہے تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی اوراس کادوبارہ پڑھنا واجب ہوگا تراویح کی دوسری رکعت میں فاتحہ چھوڑ کر سورت پڑھنے پر نماز کا حکم،اوربلا عذر ایسا کرنے سے گنہگار بھی ہوگا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوگیاکہ مطلقاقراءت جوفرض ہے وہ ایک آیت کی تلاوت سے بھی پوراہوجائے گااورسورہ فاتحہ اوراس کے ساتھ تین آیتوں کی تلاوت واجب ہے فرض نہیں اسی لئے امیراہلسنت دامت برکاتھم العالیۃنے بھی نمازکےواجبات میں ہی اس کوذکرفرمایاہے۔ |
وَاللہُ اَعْلَمُعَزَّوَجَلَّوَرَسُوْلُہ اَعْلَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم |
شئیر فتاوی