جن نمازوں میں اتنی آواز سے قراءت کی کہ خود نہ سن سکیں ، تو ان نمازوں کا کیا حکم ہے

سوال: ہمیں اب پتا چلا ہے کہ نمازوں میں اتنی آواز سے قراءت کرنی ہے کہ خود سن لیں۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ  زندگی میں ہم نے جن نمازوں میں اتنی آواز سے قراءت نہیں کی کہ خود سن لیں تو کیا وہ نمازیں ہمیں دوبارہ پڑھنی ہوں گی ؟

جواب:   نماز میں قراءت اور دیگر اوراد کم ازکم اتنی آواز میں پڑھنا ضروری ہے کہ شور و غل اور  ثقلِ سماعت نہ ہونے کی صورت میں خود اپنے کانوں تک آواز آجائے۔اگر دل میں قراءت کی یا اتنی کم آواز میں قراءت کی کہ شور اور ثقلِ سماعت نہ ہونے کے باوجود اپنے کانوں تک آواز نہ آئی تو اس  صورت میں قراءت کا فرض ادا نہ ہوگا اور نماز نہ ہوگی، اس طرح جتنی فرض  وواجب نمازیں پڑھی ہیں ان سب کو دوہرانا لازم ہوگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے