سواال:نماز کے فرضوں میں سے ایک فرض قیام کرنا ہے، تو کیا اسی طرح نفل نماز میں بھی قیام کرنا فرض ہے؟
جواب: فرائض و واجبات اور سنت فجر میں قیام فرض ہے اور بلا اجازت شرعی بیٹھ کر یہ نماز یں پڑھیں تو نماز نہ ہو گی، البتہ نفل نماز اگر بیٹھ کر پڑھیں گے تو جائز ہے یعنی نفل نماز ہو جائے گی، لیکن بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی بنسبت آدھا ثواب ملے گا۔
در مختار میں ہے”(ومنها القيام)۔۔۔ (في فرض) وملحق به كنذر وسنة فجر في الأصح”ترجمہ:فرض نماز اور جو فرض کے ساتھ لاحق ہو جیسا کہ نذر و سنت فجر ان میں اصح قول کے مطابق قیام فرض ہے۔(در مختار،ج 1،ص 445،دار الکتب العلمیۃ،بیروت)
بہار شریعت میں ہے” فرض و وتر و عیدین و سنت فجر میں قیام فرض ہے کہ بلا عذر صحیح بیٹھ کر یہ نمازیں پڑھے گا، نہ ہوں گی۔ (بہار شریعت،ج 1،حصہ 1ص 510،مکتبۃالمدینہ)
صحیح بخاری میں ہے:”عن ابن بريدة، قال: حدثني عمران بن حصين ،قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعدا، فقال: إن صلى قائما فهو أفضل ومن صلى قاعدا، فله نصف أجر القائم “ترجمہ:حضرت ابنِ بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،مجھے عمران بن حصین نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سےآدمی کے بیٹھ کر(نفل)نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگر وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو افضل ہے ،اور جس نے بیٹھ کر نماز پڑھی اسے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا ثواب ملے گا۔(صحیح بخاری، ج 2،ص 47،حدیث 1115، دار طوق النجاة)
نور الایضاح میں ہے:” يجوز النفل قاعدا مع القدرة على القيام لكن له نصف أجر القائم إلا من عذر“ ترجمہ:قیام پر قدرت کے باوجود بیٹھ کر نوافل ادا کرنا جائز ہے لیکن بیٹھ کر نوافل ادا کرنے والے کو ،کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنے والے کی بنسبت آدھا ثواب ملے گا ،مگر کوئی عذر ہو (تو بیٹھ کر بھی نوافل ادا کرنے میں مکمل ثواب ملے گا)۔ (نور الایضاح، ص 81، مطبوعہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم