سوال: کسی مسلمان نے کہا میں نیاز کونہیں مانتا میں کافر ہوں،تو اس کے بارے میں کیا حکم شرعی ہوگا؟
جواب: دریافت کی گئی صورت میں جس شخص نے بقائمی ہوش و حواس ،بغیر کسی کےاضطرار کے یہ جملہ کہا ہے کہ” میں کافر ہوں” تو وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ہے، اس پر اپنے اس کفریہ قول سے توبہ ،تجدید ایمان کرنا اور شادی شدہ تھا تو اس کے بعد تجدید نکاح کرنااور اگر کسی کا مرید ہے تو تجدید بیعت بھی لازم ہے۔
فتاوی شارح بخار ی میں ہے”جب قائل کو یہ اقرار ہے کہ میں نے فہم و شعور کی حالت میں یہ کہا ہے کہ "میں کافر ہوں”تو وہ ضرور کافر ہوگیا،اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ،اس کے سابقہ تمام اعمال حسنہ اکارت ہوگئے ،اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے ،پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو۔ "(فتاوی شارح بخاری،جلد2،صفحہ441،مکتبہ برکات المدینہ،کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم