اگرکسی نے نمازعیدسے پہلے قربانی کی تواسکاکیاحکم ہے۔نیزشہرمیں مختلف مقامات پرعیدہوتی ہے توکیاقربانی کرنے کے لئے سب کاانتظارکرناضروری ہے؟

سوال:اگرکسی نے نمازعیدسے پہلے قربانی کی تواسکاکیاحکم ہے۔نیزشہرمیں مختلف مقامات پرعیدہوتی ہے توکیاقربانی کرنے کے لئے سب کاانتظارکرناضروری ہے؟

جواب:شہرمیں قربانی کی جائے توشرط یہ ہے کہ نمازعیدہوچکے پھرقربانی کرے۔لہٰذانمازعیدسے پہلے قربانی جائزنہیں۔کیونکہ حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایاجس نے پہلے ذبح کرڈالاوہ گوشت ہے جواس نے اپنے گھروالوں کے لئے پہلے ہی سے کرلیا۔قربانی سے اس کوکچھ تعلق نہیں۔

       صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

       ’’ان اوّل مانبدأبہ فی یومناھذاان نصلی ثم نرجع فننحرمن فعلہ فقداصاب سنتناومن ذبح قبل فانماھولحم قدمہ لاھلہ لیس من النسک فی شیئ‘‘

       ترجمہ:سب سے پہلے جوکام آج ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ نمازپڑھیں پھراس کے بعدقربانی کریں، جس نے ایساکیااس نے ہماری سنت کوپالیااورجس نے پہلے ذبح کرلیاوہ گوشت ہے جواس نے پہلے اپنے گھروالوں کے لئے تیارکرلیاقربانی سے اسے کوئی تعلق نہیں۔                      (صحیح بخاری،ج2،ص832)

       البتہ دیہات میں جہاں عید کی نماز نہ ہوتی ہو وہاں بہتر یہ کہ طلوع آفتاب کے بعد قربانی کی جائے۔اورشہرمیں بہتریہ کہ عید کا خطبہ ہو چکنے کے بعد کی جائے،اگرشہرمیں متعددجگہ عیدکی نمازہوتی ہوتوپہلی جگہ نمازعیدہوجانے کے بعد قربانی جائزہے سب جگہوں کاانتظارکرناضروری نہیں‘‘۔

       درمختارمیں ہے:

       ’’واوّل وقتھابعدالصلٰوۃ ان ذبح فی مصرای بعداسبق صلاۃ عید،

       اورقربانی کااوّل وقت نمازِعیدکے بعدہے اگرشہرمیں ذبح کیاجائے۔یعنی عید کی نمازہوچکنے کے بعد۔

 (درمختار،ج 9، ص 527)

       فتاوی عالمگیری میں ہے:

       ’’والوقت المستحب للتضحیۃ فی حق اھل السوادبعدطلوع الشمس وفی حق اھل المصر بعد الخطبۃ کذا فی الظھیریۃ‘‘

       اورقربانی کاوقت مستحب دیہات والوں کے حق میں سورج طلوع ہونے کے بعدہے۔اورشہروالوں کے حق میں خطبہ کے بعدہے ایسے ہی ظھیریہ میں ذکرکیا گیا۔                                                                                                      (عالمگیری،ج5،ص295)

        بہارِ شریعت میں ہے:

       ’’شہرمیں قربانی کی جائے توشرط یہ ہے کہ نماز(عید)ہوچکے،لہذانمازعیدسے پہلے شہرمیں قربانی نہیں ہوسکتی،اوردیہات میں چونکہ نمازعیدنہیں ہے،یہاں طلوع فجرکے بعدسے ہی قربانی ہوسکتی ہے،اوردیہات میں بہتریہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے،اورشہرمیں بہتریہ ہے کہ عیدکاخطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے‘‘۔

(بہارشریعت،ج03،ص337)

       اورایک جگہ عیدکی نمازہوجانے کے بعدقربانی کرنے کے بارے میں بہارِ شریعت میں ہے:

       ’’اگرشہرمیں متعددجگہ عیدکی نمازہوتی ہوتوپہلی جگہ نمازہوچکنے کے بعدقربانی جائزہے یعنی یہ ضرورنہیں کہ عیدگاہ میں نمازہوجائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجدمیں ہوگئی اورعیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہے‘‘۔

(بہارِ شریعت،جلد3،ص337)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد مدنی عطاری)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے