سوال:مسجد کی صفیں یادریاں جومسجدکیلئے وقف ہوں یامسجدکے چندہ سے خریدی گئی ہوں انہیں نمازِعیدکے لئے عیدگاہ میں بچھانے کے لئے لے جاناکیساہے؟
جواب:مسجد کی صفیں یادریاں عیدگاہ میں لے جاناشرعاناجائزوگناہ ہے بلکہ دوسری مسجدکو عاریۃً دینابھی جائزنہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
’’یجوزللقیم شراء المصلیات للصلاۃ علیھاولایجوزاعارتھالمسجدآخر‘‘
مسجدکے ناظم کومسجدکے لئے چٹائیاں خریدناجائزہے تاکہ ان پرنمازپڑھی جائے اور عاریۃً دوسری مسجدکے لئے دیناجائزنہیں۔
(عالمگیری،کتاب الکراہیۃ،ج05،ص322)
فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن سے مسجدکاسامان استعمال کرنے کے بارے میں ایک سوال کیاگیاکہ’’سامانِ روشنی،فرش فروش ،خیمہ وقنات ودیگرفرنچی مثلاً شامیانہ ومیزوکرسی وغیرہ جووقف کی ملک ہے اہالیانِ شہرکوان کی مشروع وغیرمشروع جلسوں میں دینایاکسی رئیس کی رہائش کے سامان اسی وقف سے دیناشرعاً جائزہے یانہیں‘‘
توآپ علیہ رحمۃ الرحمن نے جواب دیتے ہوئے ارشادفرمایا:
’’حرام ہے،یہاں تک کہ ایک مسجدکاسامان دوسری مسجدکوعاریۃً بھی دیناجائزنہیں کمافی العلمگیریۃ عن القنیۃ نہ کہ زیدوعمروکونہ کہ نامشروع جلسوں کو،یہ سراسروقف پر ظلم ہے جو ایساکریں وقف سے ان کا اخراج واجب ہے،کمامرعن الوجیزوالدرروالدر‘‘۔
(فتاوی رضویہ، ج16،ص226)
مزیداسی فتاوی رضویہ میں ایک مقام پرایک سوال’’کہ عیدگاہ میں مسجدکے بستروغیرہ لے جاناجائزہے یانہیں؟کے جواب میں آپ علیہ رحمۃ الرحمن نے ارشادفرمایا:
’’عیدگاہ میں مسجدکامال لے جاناممنوع ہے‘‘۔
(فتاوی رضویہ،ج08،ص584)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)