مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہ سہو میں سلام پھیرنا کیسا ؟

مسبوق مقتدی (جس کی کوئی رکعت نکل گئی ہو)امام کےساتھ سجدہ سہو میں سلام پھیرے گا یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

  جی نہیں! مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہو کے لئے سلام نہیں پھیرے گا بلکہ سلام پھیرے بغیر ہی امام کے ساتھ سجدہ سہو کرے گا۔ 

  صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”مسبوق امام کے ساتھ سجدۂ سہو کرے اگرچہ اس کے شریک ہونے سے پہلے سہو ہوا ہو۔۔۔ مسبوق کو امام کے ساتھ سلام پھیرنا، جائز نہیں اگر قصداً پھیرے گا نماز جاتی رہے گی ۔“(بہارِ شریعت، جلد1، صفحہ 715، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے