سوال: مغرب کی تیسری رکعت میں بھولےسے دعائے قنوت پڑھ لی تو سجدہ سہو سے نماز ہو جائے گی؟
جواب: مغرب کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت خواہ بھولے سے پڑھی ہویاجان بوجھ کربہرصورت اس سے نمازمیں کوئی فرق نہیں آتالہذاسجدہ سہوکی بھی ضرورت نہیں ،بغیراس کے ہی نمازدرست ہے ۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ :
فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کی قراءت افضل ہے واجب نہیں ،تین بار تسبیح کہنے یا اتنی مقدار خاموش کھڑے رہنے کابھی اختیار ہے۔البتہ بالکل خاموش کھڑے رہنا مناسب نہیں ہے اوردعائے قنوت بھی تسبیح ہے لہذا مغرب کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھ لی تو سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں ،نماز ہو جائے گی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم