تازہ ترین

ایساجانورکہ جس کا کان کٹاہواتونہیں ہے لیکن لمبائی میں چرا ہواہواس کی قربانی کرنا کیسا ہے؟

سوال:ایساجانورکہ جس کا کان کٹاہواتونہیں ہے لیکن لمبائی میں چرا ہواہواس کی قربانی کرنا کیسا ہے؟

جواب:ایساجانورکہ جس کا کان چرا ہوا ہو، لیکن بدن سے اتراہو ا نہ ہو اس کی قربانی کرنا ، جائزتو ہے، البتہ مستحب یہ ہے کہ ایسے جانورکی قربانی نہ کی جائے، بلکہ ایسے جانور کی قربانی کی جائے  جوہر طرح کے عیب سے پاک ہو۔

       عالمگیری میں ہے:

       ’’تجزی الشرقاء وھی مشقوقۃ الاذن طولا والمقابلۃ ان یقطع من مقدم اذنھا ولایبان بل یترک معلقا والمدابرۃ ان یفعل ذلک بمؤخر الاذن من الشاۃ وما روی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی أن یضحی بالشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ والخرقاء فالنھی فی الشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ محمول علی الندب‘‘

       ترجمہ:شرقاء کی قربانی جائزہے اوراس سے مراد وہ جانور ہے جس کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں اورمقابلہ(کی بھی جائزہے اوریہ)وہ جانورہے جس کے کان کا اگلا کچھ حصہ کٹاہو،لیکن جدا نہ ہو، بلکہ لٹکا ہوا ہو اور مدابرہ ( کی بھی جائز ہے اور یہ ) وہ بکری ہے جس کے کان کا پچھلا حصہ اسی طرح کٹا ہوا ہویعنی جدا نہ ہوا ہو ساتھ لٹک رہا ہو اور جو حدیث مبارک میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ والخرقاء کی قربانی سے منع فرمایا ہے،تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاالشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ کی قربانی سے منع کرنا یہ استحباب پر محمول ہے(یعنی ان کی قربانی نہ کرنا مستحب ہے)۔

( فتاوی عالمگیری،ج5 ،ص298)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے