کیا بکری کی قربانی میں بھی حصہ جائز ہے

سوال:جس طرح ایک گائے یااونٹ کی قربانی میں سات لوگ شریک ہوسکتے ہیں کیااسی طرح ایک بکرے کی قربانی میں بھی سات لوگ شریک کئے جاسکتے ہیں یانہیں؟
جواب: بھیڑ،بکرے،مینڈھے اوردنبے کی قربانی صرف ایک شخص کی طرف سے ہی ہوسکتی ہے ،ایک سے زائدکی طرف سے جائزنہیں کیونکہ قربانی عبادت کی نیت سے اللہ تعالیٰ کے نام پر’’اراقۃ الدم‘‘یعنی خون بہانے کانام ہے اور’’اراقۃ الدم‘‘یعنی خون بہاناجودرحقیقت ایک جان تلف کرناہے ،یہ ایک جان ایک اکائی ہے اوراس کی تجزی(یعنی اجزاء میں تقسیم)نہیں ہوسکتی۔لیکن چونکہ حضورنبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے گائے اوراونٹ میں سات حصوں کی اجازت عطافرمادی،اس لئے خلافِ قیاس گائے اوراونٹ کی قربانی سات افراد کی طرف سے جائزہوئی۔اوربکرے وغیرہ میں سات حصوں کی اجازت پرکوئی حدیث موجودنہیں ہے لہذاقیاس پرعمل کرتے ہوئے اس کی قربانی صرف ایک ہی شخص کی طرف سے ہوگی،ایک سے زائدکے طرف سے جائزنہیںہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
’’القیاس فی الابل والبقران لایجوزفیھماالاشتراک لان القربۃ فی ھذاالباب اراقۃ الدم وانھالاتحمل التجزئۃلانھاذبح واحدوانماعرفناجوازذلک بالخبرفبقی الامرفی الغنم علی اصل القیاس‘‘
قیاس کے مطابق اونٹ اورگائے میں شرکت جائزنہیں کیونکہ قربت اس باب میں خون بہاناہے اوریہ تجزی کوقبول نہیں کرتی کیونکہ ذبح واحدہے لیکن اس(گائے اوراونٹ میں سات حصوں )کاجوازہم نے حدیث کے ذریعے جاناپس بکرے میں (عدمِ شرکت کا)معاملہ قیاس کے مطابق ہوگا۔
(بدائع الصنائع،ج04،ص205)
ہدایہ میں ہے:
’’ویذبح عن کل واحد منھم شاۃ ویذبح بقرۃ اوبدنۃ عن سبعۃ والقیاس ان لاتجوزالاعن واحد لان الاراقۃ واحدۃ وھی القربۃ الااناترکناہ بالاثروھوماروی عن جابررضی اللہ عنہ انہ قال نحرنامع رسول اللہ علیہ السلام البقرۃ عن سبعۃ والبدنۃ عن سبعۃولانص فی الشاۃ فبقی علی اصل القیاس‘‘
اوربکری ایک شخص کی طرف سے ذبح کی جائے گی اورگائے یااونٹ سات کی طرف سے ذبح کیے جاسکتے ہیں۔اورقیاس یہ کہتاہے کہ گائے اوراونٹ کی قربانی بھی ایک کی طرف سے ہوکیونکہ اراقہ ایک ہے اوروہ قربت ہے مگرہم نے قیاس کواس روایت کی وجہ سے ترک کردیاجوحضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایاکہ ہم رسول اللہ علیہ السلام کے ساتھ گائے کی سات افراد کی طرف سے اوراونٹ کی سات افراد کی طرف سے قربانی کرتے تھے۔اوربکری کے بارے میں کوئی روایت موجودنہیں لہذایہ اصل قیاس پرباقی رہے گی یعنی ایک شخص کی طرف سے ہی ہوگی۔
(ہدایہ اخیرین،ج04،ص444)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
’’فلاتجوزالشاۃ والمعزالاعن واحدوان کانت عظیمۃ سمینۃ‘‘
ترجمہ:بکری اوربھیڑکی قربانی جائزنہیں مگرایک شخص کی طرف سے اگرچہ وہ بکری یابھیڑخوب فربہ ہو۔
(عالمگیری،ج05،ص297)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

کیا ایک شخص ایک سے زیادہ قربانی دے سکتا ہے

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے