سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بچے کے کان میں دی جانے والی اذان بیٹھ کر دی جا سکتی ہے ؟
جواب: اذان دینے کا طریقہ معروف و معہود ہے اور جو طریقہ نماز کے لیے دی جانے والی اذان کا ہے وہی طریقہ دیگر اذانوں مثلا بچے کے کان میں یا مصیبت کے وقت دی جانے والی اذان کا بھی ہےاور نماز کے لیے دی جانے والی اذان بیٹھ کرنہیں بلکہ کھڑے ہو کر دی جاتی ہے اس لئے کلام ِ علماء سے مفہوم کی روشنی میں یہی مناسب ہے کہ بچے کے کان میں بھی کھڑے ہو کر اذان دی جائے ۔
وَاللہُ اَعْلَمُعَزَّوَجَلَّوَرَسُوْلُہ اَعْلَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم