مردوں کے خوشبو کی اجازت جبکہ عورتوں کے لئے ممانت حکمت کیا ہے

سوال: ’’مردوں کی خوشبو وہ خوشبو ہے جس میں رنگ نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو خوشبو نہ ہو‘‘اس حدیث مبارکہ کا کیا مطلب ہے؟

جواب:مفتی احمد یارخان نعیمی اس حدیث مبارکہ کی شرح بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ’’ یعنی مسلمان مردوں کو ایسی خوشبو کی اجازت ہے جس کا رنگ کپڑے پر ظاہر نہ ہو مہک ہو جیسے عطر لہذا زعفرانی رنگ کے کپڑے مرد کو منع ہیں کہ اس میں مہک کے ساتھ رنگ بھی ہوتا ہے اور عورتوں کو ایسے کپڑے کی اجازت ہے کہ اس میں رنگت ہو مگر مہک نہ ہو۔عورتوں کو مہک کی ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ وہ خوشبو اجنبی مردوں تک پہنچے،اگر وہ گھر میں عطر لگائیں جس کی خوشبو خاوند یا اولاد ماں باپ  تک ہی پہنچے تو حرج نہیں۔بہرحال مرد کے لیے سفید کپڑے بہتر ہیں عورت لیے رنگین  کپڑے بہتر۔ ‘‘

مسجد میں نکاح کی کیا فضیلت ہے ؟

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے