ایک جانورہے جس کے دو،تین دانت ٹوٹے ہوئے ہیں لیکن چارہ کھاسکتاہوتواس جانورکی قربانی کرنے کے حوالے سے کیاحکم ہوگا؟ جواب:ایسے جانورکی قربانی کرناجائزہے،کیونکہ اگرکسی جانور کے کچھ دانت نہ ہوں،لیکن اتنے دانت سلامت ہوں کہ جن سے وہ خود چارہ کھاسکے،تو اُس جانور کی قربانی جائزتو ہے،لیکن بہتر یہ ہے کہ دوسرابے عیب جانورلیں کہ چھوٹے عیب سے بھی سالم جانورمستحب ہے۔ ہدایہ شریف میں ہے: ’’ان بقی مایمکن الاعتلاف بہ اجزأہ لحصول المقصود‘‘ ترجمہ: اگر اتنے دانت باقی ہیں،جن کے ساتھ وہ چارہ کھا سکتا ہے،تو مقصود کے حاصل ہونے کی وجہ سےاُس جانورکی قربانی جائز ہے۔ (ہدایہ،ج4،ص448،مطبوعہ لاہور) فتاوی قاضی خان میں ہے: ’’ان بقی لھا من الاسنان قدر ما تعتلف جاز والا فلا‘‘ ترجمہ:اگراتنے دانت ہوں ،جن سے چارہ کھا سکے،تو اُس کی قربانی جائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔ (فتاوی قاضی خان،ج3،ص240،مطبوعہ کراچی) (قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

سوال:ایک جانور ہے جس کے دو،تین دانت ٹوٹے ہوئے ہیں لیکن چارہ کھاسکتاہوتواس جانورکی قربانی کرنے کے حوالے سے کیاحکم ہوگا؟

جواب:ایسے جانور کی قربانی  کرناجائزہے،کیونکہ اگرکسی جانور کے کچھ دانت نہ ہوں،لیکن اتنے دانت سلامت ہوں کہ جن سے وہ خود چارہ کھاسکے،تو اُس جانور کی قربانی جائزتو ہے،لیکن  بہتر یہ ہے کہ دوسرابے عیب جانورلیں کہ چھوٹے عیب سے بھی سالم جانورمستحب ہے۔  

       ہدایہ شریف میں ہے:

       ’’ان بقی مایمکن الاعتلاف بہ اجزأہ لحصول المقصود‘‘

       ترجمہ: اگر اتنے دانت باقی ہیں،جن کے ساتھ وہ چارہ کھا سکتا ہے،تو مقصود کے حاصل ہونے کی وجہ سےاُس  جانورکی قربانی جائز ہے۔

(ہدایہ،ج4،ص448،مطبوعہ لاہور)

       فتاوی قاضی خان میں ہے:

       ’’ان بقی لھا من الاسنان قدر ما تعتلف جاز والا فلا‘‘

       ترجمہ:اگراتنے دانت ہوں ،جن سے چارہ کھا سکے،تو اُس کی قربانی جائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔

(فتاوی قاضی خان،ج3،ص240،مطبوعہ کراچی)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے