سوال: دم مسفوح سے کیامرادہے؟
جواب:ذَبح کے وَقت جوخون نکلتاہے اَس کو’’دمِ مسفوح‘‘کہتے ہیں۔یہ ناپاک ہوتاہے اس کاکھاناحرام ہے۔اورذَبح کے بعدجوخون گوشت میں رَہ جاتاہے مثلاً گردن کے کٹے ہوئے حصے پر،دل کے اندرکلیجی اورتلّی میں اورگوشت کے اندرکی چھوٹی چھوٹی رگوں میں یہ اگرچہ ناپاک نہیں مگراس خون کابھی کھاناممنوع ہے۔لہذاپکانے سے پہلے اچھی طرح صفائی کرلینی چاہیے۔گوشت میں کئی جگہ چھوٹی چھوٹی رگوں میں خون ہوتاہے ان کی نگہداشت کافی مشکل ہے،پکنے کے بعدوہ رگیں کالی ڈوری کی طرح ہوجاتی ہیں۔خاص کربھیجے،سری پائے اورمُرغی کی ران اورپَرکے گوشت وغیرہ میں باریک کالی ڈوریاں دیکھی جاتی ہیں کھاتے وقت ان کونکال دیاکریں۔مُرغی کادل بھی ثابت نہ پکائیے،لمبائی میں چارچِیرے کرکے اِس کاخون پہلے اچھی طرح صاف کرلیجئے۔
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)
سوال:حرام مغزسے کیامرادہے؟
جواب:یہ سفیدڈورے کی طرح ہوتاہے جوکہ بھیجے سے شروع ہوکرگردن کے اندرسے گزرتاہواپوری ریڑھ کی ہڈی میں آخِرتک جاتاہے۔ماہرقصاب گردن اورریڑھ کی ہڈی کے بیچ سے دوپرکالے یعنی دوٹکڑے کرکے حرام مغزنکال کرپھینک دیتے ہیں۔مگربارہابے احتیاطی کی وجہ سے تھوڑابہت رہ جاتاہے اورسالن وغیرہ میں پک بھی جاتاہے۔چنانچہ گردن،چانپ اورکمرکاگوشت دھوتے وقت حرام مغزتلاش کرکے نکال دیاکریں۔یہ مُرغی اوردیگرپرندوں کی گردن اورریڑھ کی ہڈی میں بھی ہوتاہے،پکانے سے قبل اس کونکالنابہت مشکل ہے لہذاکھاتے وقت نکال دیناچاہیے۔
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)
سوال:پٹُھوں سے کون ساحصہ مرادہے؟
جواب:گردن کی مضبوطی کے لئے اس کی دونوں طرف پیلے رنگ کے دولمبے لمبے پٹھے کندھوں تک کَھچے ہوئے ہوتے ہیں۔اِن پٹّھوں کاکھاناممنوع ہے۔گائے اوربکری کے توآسانی سے نظرآجاتے ہیں مگرمُرغی اورپرندوں کی گردن کے پٹّھے بآسانی نظرنہیں آتے،کھاتے وقت ڈھونڈکریاکسی جاننے والے سے پوچھ کرنکال دیجئے۔
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)
سوال:غُدُود وں کی کیاپہچان ہوگی؟
جواب:گردن پر،حلق میں اوربعض جگہ چربی وغیرہ میں چھوٹی بڑی کہیں سُرخ اورکہیں مَٹیالے رنگ کی گول گول گانٹھیں ہوتی ہے ان کوعربی میں غَدَّہ اوراُردومیں غُدُودکہتے ہیں۔یہ بھی مت کھائیے،پکانے سے پہلے ڈھونڈکرنکال دیجئے۔اگرپکے ہوئے گوشت میں بھی نظرآجائے تونکال دیجئے۔
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)
سوال:کیاقربانی کے جانورکاچمڑا(کھال)کھاناحلال ہے؟
جواب:جی ہاں!مذبوح حلال جانورکاچمڑاکھاناشرعاًجائزہے اگرچہ گائے،بھینس ،بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔
فتاوی رضویہ میں ہے:
’’مذبوح حلال جانورکی کھال بیشک حلال ہے۔شرعاًاس کاکھاناممنوع نہیں۔اگرچہ گائے بھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔
(فتاوی رضویہ ج20،ص 233،234)
سوال:کیاقربانی کے جانور کے گردے کھاناحلال ہے؟
جواب:جی ہاں!حلال ہیں کیونکہ یہ ان چیزوں میں سے نہیں جنہیں علمائے کرام نے ناجائزیاممنوع کہاہے،جیساکہ ان چیزوں کابیان اوپرگزرچکا۔
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)