سوال: جہری وسری قراءت کا کیا مطلب ہے؟
جواب: جہری قراءت کا مطلب ہے بلند آواز سے قراءت کرنا اور اس میں کم از کم اتنی بلند آواز سے قراءت کرنا ضروری ہےکہ دوسرے لوگ جوامام صاحب سے پیچھے پہلی صف میں موجود ہوں وہ سن سکیں۔اورسری قراءت کا مطلب ہے آہستہ آواز میں قراءت کرنااور اس میں کم از کم اتنی آوازسے قراءت کرنا ضروری ہے کہ اگر کوئی شور و غُل نہ ہو ،تو خود سن سکے۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”جہر کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے لوگ یعنی وہ کہ جو صفِ اول میں ہیں سن سکیں، یہ ادنیٰ درجہ ہے اور اعلیٰ کے لئے کوئی حد مقرر نہیں اور آہستہ یہ کہ خود سن سکے۔“(بہارِ شریعت، جلد1،صفحہ 544،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مٹی کاتیل مسجدمیں جلانااورمٹی کے تیل والاروغن مسجدمیں لگانا
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:”قراءت میں اتنی آواز درکار ہے کہ اگر کوئی مانع مثلاً ثقلِ سماعت ، شور وغل نہ ہو ، تو خود سن سکے، اگر اتنی آواز بھی نہ ہو ، تو نماز نہ ہوگی۔“(بہارِ شریعت، جلد1،صفحہ 544،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم