عشاکی سنت قبلیہ کی قضا کا حکم

سوال: عشا کی جماعت کھڑی ہو گئی اور سنت قبلیہ غیر مؤکدہ پڑھے بغیر جماعت سے فرض پڑھ لیے ، تو کیا اس کے بعد پہلی چار سنتیں پڑھ سکتے ہیں ؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں ان سنتوں کی قضا لازم نہیں ہے اور اگر پڑھنا چاہیں ، تو منع بھی نہیں ہے لیکن یہ رکعتیں سنتیں نہیں ہوں گی بلکہ مستحب نفل شمار ہوں گی ۔ لہٰذا فرضوں کے بعد پڑھنا چاہیں ، تو پہلے فرضوں کے بعد کی دو سنتیں مؤکدہ پڑھیں ، ان کے بعد یہ چار رکعتیں پڑھیں ۔

         فتاوی رضویہ ، ج8 ، ص146 پر عشا کی سنتِ قبلیہ کے متعلق ہے : ”یہ سنتیں اگر فوت ہوجائیں تو ان کی قضا نہیں، لیکن اگر کوئی بعد دو سنت بعدیہ کے پڑھے تو کچھ ممانعت نہیں۔ ہاں اس شخص سے وہ سنن مستحبہ ادا نہ ہوں گی جو عشا سے پہلے پڑھی جاتی تھیں بلکہ ایک نفل نماز مستحب ہو گی۔ “

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

مرد اور عورت کی نماز میں فرق کی تفصیل ،دلائل اور طریقہ

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے