سوال: ایک امام صاحب اس رمضان میں مسئلہ معلوم نہ ہونے کے باعث طاق راتوں میں رات میں صلوۃالتسبیح بغیر جہر کے پڑھاتے رہے ، ان نمازوں کا اعادہ واجب ہو گا ؟ اور اعادہ کا طریقہ کیا ہو گا؟
جواب: یادرہے کہ رات کے نوافل اگرجماعت سے اداکیے جائیں توامام صاحب پرہررکعت میں جہر(بلندآواز)سے قراءت کرناواجب ہوتاہے،اگرجان بوجھ کرآہستہ آوازمیں قراءت کرے تونمازواجب الاعادہ ہوتی ہے اورپوچھی گئی صورت میں بھی امام صاحب قصداآہستہ آوازمیں قراءت کرتے رہے لہذا امام ومقتدی سبھی پران سارے نوافل کا اعادہ یعنی انہیں دوبارہ پڑھنا واجب ہے ، جن میں امام صاحب نے رات کے وقت آہستہ قراء ت کی لیکن اس کے لیے انہیں دوبارہ صلوۃ التسبیح کی طرح تسبیحات کے ساتھ پڑھنا ضروری نہیں بلکہ 4 ، 4 رکعات واجب الاعادہ کی نیت سے عام نوافل کی طرح پڑھ لیں توبھی درست ہے ۔اسی طرح جماعت کے ساتھ اعادہ کرناضروری نہیں ہے ، بغیرجماعت کے تنہاتنہااعادہ کرلیں توبھی کافی ہے ۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم