سوال: حمل ساقط کروانا کیسا ہے؟
جواب: بلا عذرِ شرعی حمل ساقط کروانا ناجائز و ممنوع و گناہ ہے، ہاں اگر عذر شرعی ہو تو 4ماہ سے پہلے ساقط کروانے کی اجازت ہے، عذر شرعی مثلاحاملہ بچہ کو دودھ پلانے والی ہے کہ حمل ظاہر ہوگا تو پہلے بچے کا دودھ منقطع ہوجائے گا اور بچے کا باپ اس کیلئے دودھ کا متبادل بندوبست کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور بچے کی ہلاکت کاخوف ہے، عورت زنا سے حاملہ ہے جس کی وجہ سے بدنامی کاخوف ہے۔
اور 4ماہ کے بعد عذر شرعی ہو یا نہ ہو حمل ساقط کروانا جائز نہیں ۔