جولوگ قربانی کی استطاعت نہ رکھتے ہوں،اگروہ بھی نمازِعیدکے بعدحجامت وغیرہ کروائیں توکیاانہیں بھی ثواب ملے گا؟

سوال:جولوگ قربانی کی استطاعت نہ رکھتے ہوں،اگروہ بھی نمازِعیدکے بعدحجامت وغیرہ کروائیں توکیاانہیں بھی ثواب ملے گا؟

جواب:علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جولوگ قربانی کی استطاعت نہ رکھتے ہوں اگروہ بھی اس عشرہ(یعنی ذوالحجہ کے ان دس دنوں)بال اورناخن نہ کاٹیں ،اورپھربقرعیدکے دن نمازِعیدکے بعدحجامت وغیرہ کروائیں گے توان شاء اللہ عزوجل وہ بھی قربانی کاثواب پائیں گا۔

       سنن ابو داؤد و نسائی میں حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’امرت بیوم الاضحی عیداً، جعلہ اللہ عزوجل لھذہ الامۃ، فقال الرجل: ارایت ان لم اجد الّا منیحۃ انثی، افاضحی بھا قال: لا، لکن تاخذ من شعرک وتقلم اظفارک وتقص شاربک وتحلق عانتک، فذلک تمام اضحیک عند اللہ عزوجل‘‘

       ترجمہ:مجھے یوم اضحیٰ کاحکم دیاگیا،اس دن کواللّٰہ پاک نے اس امت کے لیے عید بنایا۔ایک شخص نے عرض کی:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگرمیرے پاس منیحہ(یعنی ادھارلیے گئے جانور)کے سواکوئی جانورنہ ہو،توکیااسی کی قربانی کردوں؟فرمایا: نہیں۔ہاں!تم اپنے بال، ناخن اور مونچھیں تراشواورموئے زیر ناف مونڈھ لو،اسی میں تمہاری قربانی اللّٰہ پاک کے ہاں پوری ہو جائے گی ۔ ‘‘

(سنن نسائی،کتاب الضحایا، باب من لم یجد الاضحیۃ، جلد 2، صفحہ 201)

       مرآۃ المناجیح میں ہے:

       ’’جوقربانی نہ کر سکے، وہ بھی اس عشرہ میں حجامت نہ کرائے، بقر عید کے دن بعدِ نماز حجامت کرائے، تو ان شاء اللہ ثواب پائے گا، جیسا کہ بعض روایت میں ہے‘‘۔

(مرآۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 370)

       بہارِشریعت میں مذکورہ حدیثِ پاک ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

       ’’یعنی جس کوقربانی کی توفیق نہ ہو،اسے ان چیزوں کے کرنے سے قربانی کا ثواب حاصل ہوجائے گا‘‘۔                                 (بہار شریعت،حصہ 15،صفحہ330)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے