سوال:اگرشرکت کی نیت کے بغیر قربانی کے لئے گائے خریدنے والاشخص مالکِ نصاب نہ ہویعنی ایساہوکہ اس پرقربانی واجب نہ ہوتی ہولیکن پھربھی قربانی کے لئے گائے خریدلی توکیاوہ شخص بھی اگربعدمیں دوسرے لوگوں کواس میں شریک کرلے گاتوجائزہے؟
جواب:قربانی کے لئے بغیرشرکت کی نیت کے گائے خریدنے والاشخص اگرمالکِ نصاب نہ ہوتواس پرگائے خریدتے ہی اس گائے کی قربانی کرناواجب ہوجاتاہے لہذااب وہ کسی دوسرے کوشریک کرناچاہے تونہیں کرسکتا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
’’وان کان فقیراً معسراًفقد اوجب بالشراء فلا یجوز ان یشرک فیہا…لانہ اوجبہا کلہا للہ‘‘
اوراگرکسی فقیر خستہ حال نے گائے خرید کرخودپہ قربانی واجب کر لی تو اب کسی دوسرے کو شریک کرنا جائز نہیں کیونکہ اس نے خود ہی ساری گائے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے خود پر واجب کی ہے۔
(عالمگیری ،ج5،ص304)
بہارِشریعت میں ہے:
’’اگرغیر مالک نصاب نے قربانی کے لئے گائے خریدی تو خریدنے سے ہی اس پراس گائے کی قربانی واجب ہوگئی اب وہ دوسرے کوشریک نہیں کرسکتا ‘‘۔
(بہارِ شریعت ،ج3،حصہ 15،ص351)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)