سوال: فجر کے پورے وقت میں سجدہ تلاوت ہو سکتا ہے؟
جواب: فجر کے پورے وقت میں سجدۂ تلاوت ہوسکتا ہے کہ اس پورے وقت میں سجدہ تلاوت کرنا مکروہ وممنوع نہیں ہے۔
درّمختارمیں ہے:’’وكره نفل وكل ما كان واجبا لغيره كمنذور وركعتی طواف والذی شرع فيه ثم افسده بعد صلاة فجر و عصر لا قضاء فائتة و سجدة تلاوة وصلاة جنازة“ترجمہ:فجر وعصر کے فرض پڑھ لینے کے بعد نفل اورواجب لغیرہ نمازیں پڑھنا مکروہ ہے،واجب لغیرہ نمازیں جیسےمنت کے نفل،طواف کے دو رکعت نفل،وہ نماز جسے شروع کر کےتوڑ دیاالبتہ ان اوقات میں قضانماز کی ادائیگی، سجدہ تلاوت کرنااورنمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ نہیں۔(تنویر الابصارمعہ الدرّالمختاروردّ المحتار،جلد2،صفحہ43-44، مطبوعہ کوئٹہ)
درمختارمیں نماز فجروعصر کے بعدسجدہ تلاوت کاحکم بیان کرتےہوئےفرمایا:” لایکرہ قضاءفائتۃولو وترااو سجدۃ تلاوۃ وصلاۃ جنازۃ “یعنی فجر وعصر کے بعد فوت شدہ نماز پڑھنا اگرچہ وتر ہو ،سجدہ تلاوت کرنا اور نماز جنازہ اداکرنامکروہ نہیں ہے ۔(درمختار،جلد02،صفحہ45،مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم