قراءت بالجہر اور سری کا حکم

سوال: نمازِظہروعصرکی جماعت میں قراءت اونچی آوازنہیں کرتے جبکہ عیدین اورجمعہ کی نمازمیں تواونچی آوازسے قرأت کرتے ہیں ان دونوں میں فرق کیاہے؟

جواب:شروعِ اسلام میں کفارکاغلبہ تھااوروہ قرآن شریف سن کراللہ تبارک وتعالیٰ اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے الفاظ بکتے تھے اوران ہی دووقتوں میں وہ اپنے گھروں سے باہرآوارہ گھومتے تھے اس لیے بلندآوازسے قرأت منع فرمادی گئی اورجمعہ وعیدین میں چونکہ نمازیوں کی کثرت ہوتی تھی تواسی کثرتِ حاضرین کی وجہ سے اسے جائزہی رکھاگیااورممانعت نہ کی گئی۔

       درمختارمیں ہے:

       ’’وکان علیہ الصلاۃ والسلام یجھرفی الکل ثم ترکہ فی الظہر والعصرلدفع اذی الکفار‘‘

       پہلے پہل نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ تمام نمازوں میں جہری قراء ت فرماتے تھے پھرکفارکی اذیت کودورکرنے کے لئے ظہروعصرمیں(جہری قراءت)ترک فرما دی۔

(درمختار،ج2،ص251)

       مفتی احمدیارخان نعیمی علیہ اللہ القوی ظہروعصرمیں آہستہ قراء ت کرنے کی وجہ تحریرفرماتے ہیں:

       ’’اس لئے کہ شروع اسلام میں کفارکاغلبہ تھاوہ قرآن شریف سن کرربّ تعالیٰ اورجبریل علیہ السلام اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شا ن میں بکواس بکتے تھے ان ہی دووقتوں(ظہروعصر)میں وہ آوارہ گھومتے رہتے تھے مغرب میں کھانے میں مشغول ہوتے تھے عشاء میں سوجاتے تھے فجرمیں جاگتے نہ تھے۔اس لئے ان دونماز وں میں آہستہ قراء ت کاحکم ہوا،ربّ عزوجل نے فرمایا:

       "وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا(۱۱۰)”

       ترجمہ:اوراپنی نمازنہ بہت آوازسے پڑھونہ بالکل آہستہ اوران دونوں کے بیچ میں راستہ چاہو۔                                                      (پ15،بنی اسرائیل،آیت110)

       نہ اتنی آوازسے قرآن پڑھوجوآوازباہرجاوے،نہ اتنی آہستہ کہ خودبھی نہ سن سکو۔اب اگرچہ وہ حالت نہ رہی مگرحکم وہی رہاتاکہ مسلمان اس مغلوبیت کو یادکرکے اب غلبۂ اسلام پرخدا کا شکرکریں‘‘۔

(رسائل نعیمیہ، ص284)

       جمعہ وعیدین میں بلندآوازسے قرأت کرنے کی علت بیان کرتے ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:

       ’’جمعہ وعیدین میں باوجودنہاریت حکم جہر ہواکہ بوجہ کثرتِ حاضرین،انس حاصل اوردہشت زائل اورقلب بوجہ شہودتجلی سے قدرے ذاہل بھی ہوگا،معہذاایک ہفتہ کی تقصیرات جمع ہوکرحجاب میں گونہ قوت پیداکرتی ہیں توگاہے ماہے یہ معالجہ مناسب ہواجواپنی حرارت  سے اسے گلادے جیسے اطبّا ،خطوط دقیقہ دیکھنے سے منع کرتے اورنادراً بغرض تمرین اسے علاج سمجھتے ہیں ‘‘۔

(فتاوی رضویہ ،ج7،ص615)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے