سوال: اگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ درہم کی مقدارسے زائد مذی کپڑے پر لگی ہو تو نماز نہیں ہوتی، اس حال میں اس نے جو نمازیں ادا کیں خواہ فرائض ہوں یا واجبات، سنت ہوں یا مستحبات سب دوبارہ لوٹانا ہوں گی؟
جواب: مذی نجاست غلیظہ ہے اگر درہم سے زائد کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو بغیر پاک کیے جو نماز پڑھی وہ سرے سے ادا ہی نہیں ہوگی لہٰذا اس حالت میں پڑھی گئی فرض یا واجب نمازوں کو قضاء کی نیت سے دوبارہ پڑھنا لازم ہے البتہ سنن ونوافل کو دوبارہ نہیں پڑھاجائے گا کیونکہ سنن ونوافل کی قضا نہیں ۔
نوٹ:مذی سے مراد وہ سفید پتلا پانی ہے جو عموماً عورت سے ملاعبت کرتے ہوئے نکلتا ہے اس کے نکلنے سے شہوت ختم نہیں ہوتی بلکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے ۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم