سوال:لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہووہ بھی چھر ی پرہاتھ رکھے توکیایہ ضروری ہے؟اوراگرکوئی ہاتھ رکھتاہے توتکبیر کس کو پڑھنی ہے ذبح کرنے والے کویاہاتھ رکھنے والے کو؟
جواب:جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہواس کاچھری پرہاتھ رکھناضروری نہیں لیکن اگرکوئی ہاتھ رکھتاہے تویہ بات یادرکھے کہ جب کسی دوسرے سے جانورذبح کروائیں اورخوداپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھیں اوردونوں مل کرذبح کریں توایسی صورت میں دونوں پر’’تکبیر‘‘کہناواجب ہے۔اوراگران میں سے ایک نے بھی جان بوجھ کراللہ تعالیٰ کانام ترک کیایایہ خیال کرکے چھوڑدیاکہ دوسرے نے کہہ لیاہے مجھے کہنے کی ضرورت نہیں تودونوں صورتوں میں جانورحلال نہ ہوگا۔
درمختارمیں ہے:
’’فوضع یدہ مع یدالقصاب فی الذبح وأعانہ علی الذبح سمی کل وجوباً،فلوترکھاأحدھماأوظن أن تسمیۃ أحدھماتکفی حرمت‘‘
معاون نے اپناہاتھ قصاب کے ہاتھ کے ساتھ ذبح کرنے میں رکھااورذبح پرقصاب کی معاونت کی توہرایک پرتسمیہ پڑھناواجب ہے،پس اگران میں سے کسی ایک نے چھوڑدی یاگمان کیاکہ ان میں سے کسی ایک کاتسمیہ پڑھ لیناکافی ہے توجانورحرام ہوجائے گا۔
(درمختارمع ردالمحتار،کتاب الذبائح،ج09،ص438)
اورردالمحتارمیں ہے:
’’وشمل مااذاکان الذابح اثنتین،فلوسمی احدھماوترک الثانی عمداحرم أکلہ‘‘
تسمیہ پڑھنے کی شرط اس کوبھی شامل ہے جب ذابح دوہوں،پس اگران میں سے کسی ایک نے تسمیہ پڑھی اوردوسرے نے جان بوجھ کرنہ پڑھی تواس کاکھاناحرام ہے۔ (ردالمحتار،کتاب الذبائح،ج09،ص438)
شرح نقایہ میں ہے:
’’یشترط تسمیۃ من اعان الذابح بحیث وضع یدہ علی المذبح کماوضع الذابح حتی لوترک احدھماالتسمیۃ لایحل‘‘
ترجمہ:ذابح کے معاون پربھی تسمیہ پڑھناشرط ہے جب وہ اپناہاتھ چھری پررکھے جیساکہ ذابح نے رکھاحتی کہ اگران میں سے کسی نے تسمیہ کوترک کردیاتوجانورحلال نہیں ہوگا۔
(شرح النقایہ،کتاب الذبائح،ج03،ص191)
فتاوی رضویہ میں ہے:
’’وہ معین ذابح جس پرتکبیرکہناضرورہے وہ ہے کہ ذابح کاہاتھ ضعیف ہوتنہااس کی قوت سے ذبح نہ ہوسکتاہو،یہ شخص نفسِ فعل میں اس کی امدادکرے اس کے ساتھ چھری پرہاتھ رکھے اورذبح دونوں قوتوں کے اجتماع سے واقع ہو،اس حالت میں دونوں پرتکبیرلازم ہے،ایک بھی قصداًچھوڑے گاذبیحہ مردارہوجائے گا‘‘۔
(فتاوی رضویہ،ج20،ص221)
بہارِشریعت میں ہے:
’’خودذبح کرنے والے کو”بسم اﷲ”کہناضروری ہے دوسرے کاکہنااس کے کہنے کے قائم مقام نہیں یعنی دوسرے کے بسم اﷲ پڑھنے سے جانورحلال نہ ہوگا جب کہ ذابح نے قصداًترک کیاہواوردوشخصوں نے ذبح کیاتودونوں کاپڑھنا ضروری ہے ایک نے قصداً ترک کیاتوجانورحرام ہے۔معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذبح کرنے میں اس کامعین ہویعنی دونوں نے مل کرذبح کیاہودونوں نے چھری پھیری ہومثلاًذابح کمزورہے کہ اس کی تنہاقوت کام نہیں دے گی دوسرے نے بھی شرکت کی دونوں نے مل کرچھری چلائی۔اگردوسراشخص جانور کوفقط پکڑے ہوئے ہے تویہ معین ذابح نہیں اس کے پڑھنے نہ پڑھنے کوکچھ دخل نہیں۔یہ اگرپڑھتاہے تواس کامقصدیہ ہوسکتاہے کہ ذابح کوبسم اﷲ یاد آجائے اورپڑھ لے۔
(بہارِ شریعت ،ج3،حصہ 15،ص318)
مزیداسی میں ایک مقام پرفرماتے ہیں:
’’دوسرے سے ذبح کرایااورخوداپناہاتھ بھی چھری پررکھ دیاکہ دونوں نے مل کرذبح کیاتودونوں پر”بسم اﷲ”کہناواجب ہے ایک نے بھی قصداًچھوڑدی یا یہ خیال کرکے چھوڑدی کہ دوسرے نے کہہ لی مجھے کہنے کی کیاضرورت دونوں صورتوں میں جانورحلال نہ ہوا‘‘۔
(بہارِ شریعت ،ج3،حصہ15،ص351)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)