بیل اوربھینس کی قربانی

بیل اوربھینس کی قربانی

یادرہے کہ فی زمانہ بعض لوگ بیل اوربھینس کی قربانی پرمختلف قسم کے حیلے بہانے کرتے ہوئے اعتراضات کرتے ہیں اورمسلمانوں کوشکوک وشبہات میں ڈال کرایک حکمِ شرعی پرعمل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ بیل اوربھینس بھی گائے کی ہی ایک قسم ہونے کی وجہ سے اس میں شامل ہیں لہذاان کی قربانی بھی جائزہے شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں ۔
اوران کی قربانی اس وجہ سے بھی جائزہے کہ یہ’’بَهِیْمَةِالْاَنْعَامِ‘‘میں داخل ہیں۔اور’’بَهِیْمَةِالْاَنْعَامِ‘‘کی قربانی کرنے کے بارے میں قرآن مجیدفرقانِ حمیدمیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَامَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوااسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَارَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ”
ترجمہ:’’ہم نے ہراُمت کے لئے قربانی مقررکی تاکہ وہ ان جانوروں کواللہ کانام لے کرذبح کریں جوانہیں عنایت ہوئے ہیں۔‘‘
(پارہ 17،سورۃ الحج ،آیت34)
فتاوی خانیہ میں ہے:
’’الاضحیۃ تجوزمن أربع من الحیوان الضأن والمعزوالبقروالابل ذکورھاواناثھاوکذلک الجاموس لانہ نوع من البقرالاھلی‘‘
جانوروں میں سے چارکی قربانی جائزہے،بھیڑ،بکری،گائے اوراونٹ ان کے مذکراورمؤنث اوراسی طرح بھینس کی قربانی بھی جائزہے کیونکہ وہ پالتوگائے کی ایک قسم ہے۔
(فتاوی خانیہ، ج03،ص348)
ہدایہ میں ہے:
’’ویدخل فی البقرالجاموس لأنہ من جنسہ‘‘
اورگائے میں بھینس داخل ہے کیونکہ بھینس گائے کی جنس میں سے ہے‘‘۔
(ہدایہ مع فتح القدیر،ج09،ص531)
ردالمحتارمیں ہے:
’’الجاموس نوع من البقر‘‘
بھینس گائے کی ایک قسم ہے۔
(ردالمحتار،ج09،ص466)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
’’والجاموس نوع من البقر‘‘
بھینس گائے کی ایک نوع (قسم)ہے یعنی اسی میں شامل ہے۔
(عالمگیری ،ج5،ص297)
الفقہ الاسلامی وادلۃ میں ہے:
’’اتفق العلماء علی أن الأضحیۃ لاتصح الامن نعم:ابل وبقرومنھاالجاموس وغنم ومنھاالمعزبسائرأنواعھا،فیشمل الذکروالأنثی،والخصی والفحل،فلایجزیٗ غیرالنعم من بقرالوحش وغیرہ،الظباء وغیرھا،لقولہ تعالیٰ:”وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَامَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ”
ترجمہ:علماء کااس بات پراتفاق ہے کہ صرف مویشی جانوروں کی قربانی جائزہے(ان کے علاوہ کسی کی جائزنہیں):اوروہ یہ ہیں اونٹ،گائے اوربھینس بھی گائے میں شامل ہے،بکری اوربھیڑبھی اس میں شامل ہے اپنی تمام اقسام کے ساتھ،اورمذکر،مؤنث،خصی اورغیرخصی سب اس میں شامل ہیں،پس ان مویشی جانوروں کے علاوہ وحشی گائے اورہرن وغیرہ کی قربانی جائزنہیں،کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:(ترجمہ:اورہرامت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقررفرمائی کہ اللہ کانام لیں اس کے دیئے ہوئے بے زبان چوپایوں پر)۔
(الفقہ الاسلامی وادلۃ،ج04،ص2719)
بہارِشریعت میں ہے:
’’بھینس گائے میں شمارہے اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔بھیڑاوردنبہ بکری میں داخل ہیں ان کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔‘‘
(بہارشریعت ،ج03،حصہ15،ص339)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے