بھانجے کو زکوۃ دینا کیسا ؟

سوال: کیا بہن کے بیٹے کو  زکوۃ دے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنا قرض اتار سکےاور اسے بتانا نہیں ہے کہ یہ زکوۃ ہے؟

جواب:   بہن کا بیٹا یعنی بھانجااگر مستحق زکوۃ ہو یعنی شرعی فقیر ہو کہ اس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر مال موجود نہ ہو اور اس میں زکوۃ لینے کی دیگر شرائط (مثلا ہاشمی نہ ہونا وغیرہ)پائی جائیں،تو اسے زکوۃ دے سکتے ہیں،بلکہ افضل ہے کہ اس میں صلہ رحمی بھی ہے،پھر زکوۃ لینے کے بعد وہ اسے اپنا قرض اتارنے یا کسی بھی کام میں خرچ کر سکتا ہے،اور زکوۃ دیتے وقت یہ بتاناضروری نہیں کہ یہ زکوۃ کی رقم ہے بلکہ عیدی یا گفٹ وغیرہ کے نام سے بھی زکوۃ دے سکتے ہیں ،مگرزکوۃ دیتے وقت دل میں نیت ہونا ضروری ہے۔

   امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ  سے سوال ہوا کہ بھانجی  بھانجے کو (مالِ زکوۃمیں سے)کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟

   تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا:ان کو بھی بشرائطِ مذکورہ(یعنی جبکہ مصرف ہوں) جائز ہے۔(فتاوی رضویہ،ج 10،ص 252،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

   فتاوی ہندیہ میں ہے” والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم “ترجمہ:زکوۃ ،صدقہ فطر اور منت کی ادائیگی میں افضل یہ ہے کہ اولاً بہن بھائیوں کو دے،پھر ان کی اولاد کو۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الزکاۃ،ج 1،ص 190،دار الفکر،بیروت)

   فتاوی رضویہ میں ہے” اگر عید کے دن اپنے رشتہ داروں کو جنھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے کچھ روپیہ عیدی کا نام کر کے دیا اور انہوں نے عیدی ہی سمجھ کر لیا اور اس  کے دل میں یہ نیّت تھی میں زکوٰۃ دیتا ہوں بلاشبہ ادا ہوجائیگی ۔(فتاوی رضویہ،ج 10،ص 71،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

گھر خریدنے کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے