بچوں پر نماز او ر روزہ کس عمر میں فرض ہوتے ہیں ؟

سوال: بچوں پر نماز روزہ فرض ہونے کی عمر کیا ہے؟

جواب: جب کوئی  بچہ  یا بچی بالغ  ہوجائے تو اس پر نماز ،  روزہ فرض ہوجاتا ہے۔

   لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”لڑکے کو جب انزال ہوگیا وہ بالغ ہے وہ کسی طرح ہو ،سوتے میں ہو جس کو احتلام کہتے ہیں یا بیداری کی حالت میں ہو۔ اور انزال نہ ہو تو جب تک اس کی عمر پندرہ سال کی نہ ہو بالغ نہیں جب پورے پندرہ سال کا ہوگیا تو اب بالغ ہے، علامات بلوغ پائے جائیں یا نہ پائے جائیں ،لڑکے کے بلوغ کے لیے کم سے کم جو مدت ہے وہ بارہ سال کی ہے یعنی اگر اس مدت سے قبل وہ اپنے کو بالغ بتائے اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔

       لڑکی کا بلوغ احتلام سے ہوتا ہے یا حمل سے یا حیض سے ان تینوں میں سے جو بات بھی پائی جائے تو وہ بالغ قرار پائے گی اور ان میں سے کوئی بات نہ پائی جائے تو جب تک پندرہ سال کی عمر نہ ہو جائے بالغ نہیں اور کم سے کم اس کا بلوغ نوسال میں ہوگا اس سے کم عمر ہے اور اپنے کو بالغہ کہتی ہو تو معتبر نہیں۔“(بہار شریعت، جلد3، صہ 15، صفحہ 203، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

روزہ کی حالت میں نمک وغیرہ چکھنا

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے