اللہ پاک کو گاڈ،اوپر والا اور میاں کہنا کیسا ہے ؟

 سوال:  اللہ پاک کو گاڈ،اوپر والا اور میاں کہنا کیسا ہے ؟

 جواب:   (الف) گاڈ انگریزی کا لفظ ہے، اس کے معنی ہیں محافظ، اس لحاظ سے اللہ تعالی کو گاڈ کہنے میں کوئی حرج نہیں ،لیکن چونکہ  خدا کو گاڈ کہنا عیسائیوں کا عرف اور ان کا شعار ہے  لہذا مسلمانوں کو اس سے احتراز کرنا چاہیے۔(شارح بخاری ج 1 ص 173)

   (ب)اور اللہ تبارک وتعالی کی ذات کے لئے لفظ ”اُوپر والا ”بولنا کُفْر ہے کہ اِس لفْظ سے اسکے لئے جِہَت(یعنی سَمت)کا ثُبُوت ہوتا ہے اور اس کی ذات جِہَت (سَمت)سے پاک ہے جیسا کہ حضرت علامہ سعدُ الدِّین تَفْتازَانِی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:”اللہ تبارک وتعالی مکان میں ہونے سے پاک ہے اور جب وہ مکان میں ہونے سے پاک ہے توجِہَت(یعنی سَمت)سے بھی پاک ہے ، (اِسی طرح )اُوپر اور نِیچے ہونے سے بھی پاک ہے ۔”(شرحُ الْعقائدص60)

   حضرتِ علامہ ابنِ نُجَیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نقل فرماتے ہیں :”جواللہ عزوجل کو اُوپر یا نِیچے قرار دے تو اُس پر حکمِ کُفر لگایا جائے گا۔ ”( اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج 5 ص 203)

   لیکن اگر کوئی  شخص یہ جملہ بُلندی و برْتَری کے معنیٰ میں استعمال کرے تو قائِل پر حُکْمِ کفر نہ لگائیں گے مگر اِس قَول کو بُرا ہی کہیں گے اورقائِل کو اِس سے روکیں گے ۔(فتاویٰ فیض الرسول ج1 ،ص2،شبیربرادرز)

   (ج)اوراللہ تعالی کو میاں  کہنا بھی منع ہے۔  

چنانچہ فتاوی شارح بخاری میں ہے:اللہ عزوجل کو میاں کہنا منع ہے ،وجہ یہ ہے کہ  میاں کے تین معنی ہیں:مالک ،شوہر،زناکا دلال۔اور جس لفظ کے چند معنی ہوں اور  کچھ معنی خبیث ہوں  اور وہ لفظ شرع میں وارد نہ ہو تو اس کا اطلاق اللہ عزوجل  پر منع ہے۔ (فتاوی شارح بخاری،ج1،ص137،مکتبہ برکات المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے