اللہ کے لئے سوچنے کا لفظ استعمال کرنا کیسا ؟

سوال: یہ جملہ کہنا کیسا کہ اللہ نے آپ کے لیے بہتر سوچا ہوگا؟

 جواب:  یہ جملہ درست نہیں، کیونکہ اللہ پاک کے لیے سوچنےکے لفظ کا استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ علما نے اس کو کفر تک لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے سوچنے کا اثبات اس کے قادر ہونے اور عالم الغیب ہونے سے انکار ہے۔

   اس کی جگہ یہ جملہ کہنا چاہئے کہ اللہ پاک نے آپ کیلئے بہتر مقدر فرمایا ہوگا، بہترفیصلہ کیا ہوگا۔

   فتاوی شارح بخاری میں ہے:’’ یہ جملہ کہ’’اللہ بھی اپنے دل میں سوچتا ہو گا‘‘ یقینا صریح کفر ہے ، اس جملے میں تین کفریات ہیں۔۔۔ دوسرا یہ کہ اس نے کہا سوچتا ہو گا ۔ سوچتا وہ ہے جو عالم الغیب نہ ہو اور قدرت نہ رکھتا ہو ۔ اللہ تعالی کے لیے سوچنے کا اثبات اس کے قادر ہونے اور عالم الغیب ہونے سے انکار ہے۔ ‘‘(ملتقط ازفتاوی شارح بخاری،جلد1، صفحہ 162،مطبوعہ:دائرۃ البرکات ،ھند)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے