کیا ایک شخص ایک سے زیادہ قربانی دے سکتا ہے

سوال: آپ نے کہاکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایک فرد کی طرف سے ایک ہی قربانی دی جاسکتی ہے لیکن جب ہم حضورعلیہ السلام کی اُمت کی طرف سے قربانی کاخیال کرتے ہیں توذہن میں یہ بات آتی ہے جب ایک قربانی ایک ہی فردکے طرف سے ہوسکتی ہے توپھرآپ علیہ السلام نے تمام اُمت کی طرف سے ایک قربانی کیسے کی؟
جواب:ایک قربانی یقینا ایک فرد کی طرف سے ہی ہوگی اورگھرمیں سے ہرمالکِ نصاب جس پرقربانی کی دیگرشرائط بھی پائی جائیں اسے اپنی طر ف سے الگ کرنی ہوگی لیکن اُمت کی طرف سے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے بارے میں علمائے اسلام فرماتے ہیں کہ یہ حضورعلیہ السلام کے خصائص میں سے ہے جس طرح حضور علیہ السلام نے چھ مہینے کی بکری کے بچہ کی قربانی ابوبردہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے جائز فرما دی تھی اوراوروں کے لئے اس کی ممانعت فرمادی۔
بہارِشریعت میں ہے:
’’احادیث سے ثابت ہے کہ سیدعالم حضرت محمدرسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اُمتِ مرحومہ کی طرف سے قربانی کی یہ حضورکے بے شمارالطاف میں سے ایک خاص کرم ہے کہ اس موقع پر بھی اُمت کاخیال فرمایااورجولوگ قربانی نہ کرسکے ان کی طرف سے خود ہی قربانی ادا فرمائی۔یہ شبہہ کہ ایک مینڈھا ان سب کی طرف سے کیوں کر ہوسکتا ہے یا جو لوگ ابھی پیدا ہی نہ ہوئے ان کی قربانی کیوں کر ہوئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص سے ہے۔ جس طرح حضور نے چھ مہینے کے بکری کے بچہ کی قربانی ابوبردہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے جائز فرما دی اوروں کے لئے اس کی ممانعت کر دی۔ اسی طرح اس میں خود حضور کی خصوصیت ہے کہنا یہ ہے کہ جب حضور نے اُمت کی طرف سے قربانی کی توجو مسلمان صاحب استطاعت ہو اگر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی ایک قربانی کرے توزہے نصیب اور بہتر سینگ والا مینڈھا ہے جس کی سیاہی میں سفیدی کی بھی آمیزش ہوجیسے مینڈھے کی خود حضور اکرم نے قربانی فرمائی‘‘۔
(بہارِ شریعت ،ج3،حصہ 15،ص353)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

ایک سے زیادہ قربانی کرنا کیسا

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے