سوال:ایسی گائے کہ جس میں قربانی کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں لیکن اس کاایک تھن خشک ہوجائے اوراس میں سے دودھ نہ آتاہو،لیکن بقیہ تین تھنوں سے دودھ آتا ہو، اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
جواب:ایسی گائے یابھینس کہ جس میں قربانی کی دیگرتمام شرائط پائی جائیں صرف ایک تھن خشک ہوجائے،بقیہ تین تھن ٹھیک ہوں،ان سے دودھ آتاہواس کی قربانی جائزہے،لیکن بہتر نہیں، کیونکہ مستحب یہ ہے کہ قربانی کے لیے ایسا جانور قربان کیاجائے جس میں معمولی سابھی عیب نہ ہو۔
ردالمحتار میں ہے:
’’في الشاة والمعز اذا لم يكن لهما احدى حلمتيهما خلقة او ذهبت بآفة وبقيت واحدة لم يجز وفي الابل والبقر ان ذهبت واحدة يجوز او اثنتان لا،وذکر فیھا جواز التی لا ینزل لھا لبن من غیر علۃ وفي التتارخانية: والشطور لا تجزئ، وهي من الشاة ما قطع اللبن عن احدى ضرعيها ومن الابل والبقر ما قطع من ضرعيها، لان لكل واحد منهما اربع اضرع‘‘
ترجمہ: اگر بکری اور بھیڑ کے دو تھنوں میں سے ایک تھن پیدائشی نہ ہو یا کسی آفت کی وجہ سے ضائع ہوجائے اورایک باقی ہو،تواس کی قربانی جائزنہیں،(البتہ)اونٹ اور گائے کا ایک تھن ضائع ہو جائے،تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر دو ضائع ہو جائیں، تو جائز نہیں اور خلاصہ میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہونے کا ذکر ہے، جس کا دودھ بغیر کسی بیماری کے نہیں اترتا اور تتارخانیہ میں ہے: شطور کی قربانی جائز نہیں، شطور بکریوں میں اس کو کہتے ہیں جس کے دو تھنوں میں سے ایک سے دودھ آنامنقطع ہو جائے،جبکہ اونٹ اور گائے میں سے اس کو کہتے ہیں جس کے دو تھنوں میں سے دودھ آنا ختم ہو جائے، کیونکہ اونٹ اور گائے کے چار تھن ہوتے ہیں۔‘‘
(ردالمحتارمع الدر المختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، صفحہ 538)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)