سوال:کوئی جانور بکرا یابکری سال بھرسے کم عمرکاقربانی کے لئے خریدلیاجائے توکیاکرناچاہیے؟
جواب: بکرا یابکری سال بھرسے کم عمرکی قربانی ہرگزجائزنہیں،نہ ہی اس پرقربانی کی نیت صحیح ہے اوروہ خریدنے والے کی ملک ہوگاجوچاہے کرے ۔
فتاوی رضویہ میں ہے:
’’بکرابکری ایک سال سے کم کاقربانی میں ہرگزجائزنہیں،نہ اس پرقربانی کی نیت صحیح وہ اس کی ملک ہے جوچاہے کرے،قربانی کے لئے دوسراجانورلے ہاں اگریہ نیت کی ہوکہ آئندہ سال اس کی قربانی کروں گاتواسے قربانی ہی کے لئے رکھے،اس کابدلنا مکروہ ہے‘‘۔
(فتاوی رضویہ ،ج20،ص443)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)