قربانی کے لئے سات حصہ داروں نے گائے خریدی لیکن قربانی سے پہلے   اگرکوئی حصہ دارمرجائے توکیاکیاجائے؟

سوال:قربانی کے لئے سات حصہ داروں نے گائے خریدی لیکن قربانی سے پہلے   اگرکوئی حصہ دارمرجائے توکیاکیاجائے؟
 
جواب:سات شخصوں نے مل کر قربانی کے لیے ایک گائے خریدی ۔ان میں سے ایک کا انتقال ہوگیا۔اب اگر اس کے(یعنی جومرگیا)ورثاء نے شرکاء سے یہ کہہ دیاکہ تم اس گائے کو اپنی طرف سے اوراس کی طرف سے قربانی کردواورانہو ں نے کرلی تو سب کی طرف سے قربانی جائز ہو گئی۔اوراگربغیراجازت ورثاء کی تو کس کی قربانی نہ ہوئی۔
ہدایہ میں ہے:
’’واذااشتری سبعۃ بقرۃ لیضحوابھا فمات احدھم قبل النحروقالت الورثۃ اذبحوھاعنہ وعنکم اجزاھم…ولومات واحدمنھم فذبحھاالباقون بغیراذن الورثۃ لایجزیھم لانہ لم یقع بعضھاقربۃ وفیماتقدم وجدالاذن من الورثۃ فکان قربۃ‘‘
اورجب سات لوگوں نے قربانی کے لئے گائے خریدی توقربانی سے پہلے ان میں سے ایک حصہ دارمرگیااورورثاء نے باقی حصہ داروں سے کہاکہ تم اپنی طرف سے اوراس کی طرف سے قربانی کروتوجائزہے …اوراگران میں سے ایک مرگیااورباقیوں نے بغیرورثاء کی اجازت کے قربانی کردی توکسی کی طرف سے جائزنہ ہوئی کیونکہ اس میں بعض کی طرف سے قربت نہیں پائی گئی اورپہلی صورت جوگزری اس میں ورثہ کی طر ف سے چونکہ اجازت پائی گئی لہذاقربت بھی پائی گئی۔‘‘      (ہدایہ ،ج4،ص449،450)
(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے