سوال:یہ بھی بتائیے کہ ایک شخص کم وبیش دولاکھ روپے کامالک ہےلیکن اس نے کسی دوسرے شخص کوبطورِقرض دئیے ہوئے ہیں اور طے یہ پایاکہ مقروض دوسال کے بعدواپس کرے گا،جبکہ ابھی قربانی کے ایام قریب ہیں اوراس کے پاس کوئی اورمال نہیں ہےاورجواس کی اپنی رقم تھی وہ ابھی ان دنوں میں نہیں مل سکتی،توکیااس پرقربانی کرنالازم ہے یانہیں؟
جواب:اس صورت میں شخصِ مذکورپرلازم ہے کہ مقروض سے اتنی رقم کا مطالبہ کرے ، جس سے قربانی ہوسکے گی،جبکہ اسےظنِ غالب ہوکہ وہ اس کے مانگنے پردے دے گااور اگر کوئی صورت نہ بنے کہ نہ تو اس کوایام قربانی میں وہ رقم مل سکتی ہے اورنہ ہی اس کے پاس کوئی اورمال ہے،جس سے جانورخریدسکے،تواس پرقربانی واجب نہیں۔اس صور ت میں اس پر قرض لے کرقربانی کرنابھی لازم نہیں اور نہ ہی قرض ملنے کے بعدقربانی کے جانورکی قیمت صدقہ کرنالاز م ہوگا۔
فتاوی بزازیہ میں ہے:
’’لہ دین حال علی مقر ولیس عندہ مایشتر یھا بہ لایلزمہ الاستقراض ولا قیمۃ الاضحیۃ اذا وصل الدین الیہ ولکن یلزمہ ان یسال منہ ثمن الاضحیۃ اذا غلب علی ظنہ انہ یعطیہ‘‘
ترجمہ:صاحب نصاب کا کسی ایسے شخص پر قرض فوری ہے، جس کاوہ اقرارکرتاہے اوراس کے پاس کوئی ایسی شے نہیں کہ جس سے وہ قربانی کے لیے جانورخریدسکے،تواس پرقربانی کے لیے قرض لینالازم نہیں اور نہ ہی قرض واپس ملنے پر قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنالازم ہے،لیکن اس کے لیے قربانی کی قیمت جتنی رقم کاسوال کرنا لازم ہے ، جبکہ اس کوظن غالب ہو کہ وہ دے دے گا۔
(فتاوی بزازیہ مع عالمگیری،جلد6،صفحہ287،کوئٹہ)
اورفتاوی عالمگیری میں ہے:
’’ولو کان علیہ دین بحیث لو صرف فیہ نقص نصابہ لا تجب وکذا لو کان لہ مال غائب لا یصل إلیہ فی أیامہ‘‘
ترجمہ:اگر کسی شخص پر اتنا دَین ہو کہ وہ اپنامال اس دَین کی ادائیگی میں صرف کر ے ، تو نصاب باقی نہ رہے ،تواس پر قربانی نہیں ہے۔ اسی طرح جس شخص کامال اس کے پاس موجود نہیں اور قربانی کے ایام میں وہ مال اسے ملے گا بھی نہیں(بلکہ ایام قربانی کے بعد ملے گا،تواس پر بھی قربانی واجب نہیں)۔
(فتاوی عالمگیری،کتاب الاضحیۃ ،جلد5،صفحہ292)
بہارِ شریعت میں ہے:
’’اوس شخص پر دَین ہے اور اوس کے اموال سے دَین کی مقدارمُجرا کی جائے تو نصاب نہیں باقی رہتی ، اوس پر قربانی واجب نہیں اور اگر اس کا مال یہاں موجود نہیں ہے اور ایامِ قربانی گزرنے کے بعد وہ مال اوسے وصول ہوگا تو قربانی واجب نہیں۔‘‘
(بہارشریعت،جلد3،حصہ 15،صفحہ 333)
Tags توکیااس پرقربانی کرنالازم ہے یانہیں؟ جواب:اس صورت میں شخصِ مذکورپرلازم ہے کہ مقروض سے اتنی رقم کا مطالبہ کرے جبکہ ابھی قربانی کے ایام قریب ہیں اوراس کے پاس کوئی اورمال نہیں ہےاورجواس کی اپنی رقم تھی وہ ابھی ان دنوں میں نہیں مل سکتی جبکہ اسےظنِ غالب ہوکہ وہ اس کے مانگنے پردے دے گااور اگر کوئی صورت نہ بنے کہ نہ تو اس کوایام قربانی میں وہ رقم مل سکتی ہے اورنہ ہی اس کے پاس کوئی اورمال ہے جس سے جانورخریدسکے جس سے قربانی ہوسکے گی سوال:یہ بھی بتائیے کہ ایک شخص کم وبیش دولاکھ روپے کامالک ہےلیکن اس نے کسی دوسرے شخص کوبطورِقرض دئیے ہوئے ہیں اور طے یہ پایاکہ مقروض دوسال کے بعدواپس کرے گا