اذان میں حروف کی ادائیگی درست نہ ہو، تو ایسی اذان کا حکم اور اس کا جواب دینا کیسا ؟

سوال:  اذان میں اگر حروف کی ادائیگی، مخارج کی ادائیگی میں غلطی ہوتو ایسی اذان ہوجائےگی؟ اور اس کا جواب دینا ہوگا یا نہیں ؟

جواب:  اگر تلفظ اور مخارج غلط ہونے کی وجہ سے اذان کے الفاظ بگڑ جائیں مثلاً اللہ اکبر کو آللہ اکبر  یا ’’حی ‘‘کو ’ھی‘وغیرکہے، تو اب یہ لحن کے حکم میں ہے ایسی اذان دینا حرام ہے اور اس کا جواب بھی نہ دیا جائے بلکہ سنی بھی نہ جائے اور جب اذان ہی صحیح نہیں ہوئی تو ایسی اذان کودوبارہ ضرور لوٹانا چاہئے۔

   ردالمحتار میں ہے:”لو کان بعض کلماتہ غیر عربی او ملحونا لا تجب علیہ الاجابۃ فی الباقی لانہ حینئذ لیس اذانا مسنونا کما لو کان کلہ کذلک او کان قبل الوقت او من جنب او امراۃ“یعنی اگر بعض کلمات غیر عربی میں کہے یا ان میں لحن تھا، تو باقی اذان کا جواب بھی اس پر واجب نہیں کیونکہ اس وقت یہ مسنون اذان نہیں جیسا کہ اگرپوری اذان ہی ایسے ہو یا وقت سے پہلے ہو یا جنبی یا عورت نے اذان کہی ہو۔(ردالمحتار،جلد2، صفحہ 82، مطبوعہ:بیروت)

   صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ کلمات اَذان میں لحن حرام ہے، مثلاً اﷲ يا اکبر کے ہمزے کو مد کے ساتھ آﷲ یا آکبر پڑھنا، یوہیں اکبر میں بے کے بعد الف بڑھانا حرام ہے۔ ‘‘(بہارِ شریعت،جلد03، صفحہ468،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

   مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے ایسی اذان و اقامت کے بارے میں سوال ہوا جس میں اشھد، کواسھد۔ محمد کو مھمد۔ حی کو ھی۔ الفلاح کو الفلا۔ قد قامت کو کد کامت۔ وغیرہ کہا گیا اس کے جواب میں فرماتے ہیں:’’سائل نے اپنی تحریر میں اذان کی جن غلطیوں کی نشان دہی کی ہے ان میں بعض کو فقہ کی اصطلاح میں لحن کہتے ہیں ایسی اذان کا جواب نہ دیا جائے بلکہ سنا بھی نہ جائے۔ ایسی اذان کہنا حرام ہے(بہارشریعت) بعض ایسی صورت میں جب اذان مکروہ ہو اعادہ کا حکم ہے تو جب اذان صحیح ہی نہیں ہوئی تو ضرور لوٹانا چاہئے۔واللہ تعالی اعلم‘‘(فتاویٰ بحر العلوم جلد 01، صفحہ 153، 154،  شبیر برادرز،لاھور)

   تنبیہ!اذان کیلئے ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو اذان کے الفاظ درست وصحیح ادا کرنےپر قادر ہو ورنہ اذان ہوگی نہیں تو ترک اذان کا وبال آئےگا کہ جماعت مستحبہ کیلئے اذان کہنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ مثل واجب کے ہے۔

   فتاوی بحرالعلوم میں ہے:”یہ جان کر کہ غلط اذان کہتا ہے ،اس کو موذن مقرر کرنا منع ہے۔“(فتاوی بحر العلوم، جلد4،صفحہ 174،شبیر برادرز، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(دعوت اسلامی)

 

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے