جانورذَبح کرتے ہوئے جن لوگوں نے اس کے پاؤں اورسروغیرہ کوپکڑاہواہوتاہے تاکہ ذبح میں آسانی رہے توکیاان لوگوں پربھی تکبیرکہنالازم ہے؟

سوال: جانور ذَبح کرتے ہوئے جن لوگوں نے اس کے پاؤں اورسروغیرہ کوپکڑاہواہوتاہے تاکہ ذبح میں آسانی رہے توکیاان لوگوں پربھی تکبیرکہنالازم ہے؟

جواب:جی نہیں!تکبیرصرف ذابح(ذبح کرنے والے )کاپڑھناضروری ہے ۔

       فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا:

       ’’اصل ذابح پرتکبیرکہنی لازم اوراسی کی تکبیرہی کا فی ہے۔سر یا پاؤں پکڑنے والے کی تکبیر کی اصلاًحاجت نہیں نہ اس کا کافر مشرک ہونا کچھ مضر۔

       ’’فان الذبح انما ھو قطع العروق لا الاخذ بالراس ولقوائد کما لایخفی‘‘

       یعنی ذبح جانورکی رگوں کے کاٹنے کانام ہے جانورکے سراورپاؤں پکڑنے کا نام نہیں،جیساکہ مخفی نہیں ہے۔

       ہاں اگرایک نے دوسرے کونفسِ ذَبح میں مدددی،مثلاًزیدذبح کرتاہے عمرو نے دیکھااس کاہاتھ ضعیف ہے ذبح میں دیرہوگی اپناہاتھ بھی چھری پررکھ دیااور دونوں نے مل کرچھری پھیری توبیشک دونوں میں جوکوئی قصداًتکبیرنہ کہے گاجانورحرام ہوجائے گا۔یونہی اگران میں کوئی کافرمشرک تھاتوبھی ذبیحہ مردار ہوگیا‘‘۔                                                                        (فتاوی رضویہ ،ج20،ص215)

       مزیداسی میں ایک مقام پرفرمایا:

       ’’ذبیحہ کاہاتھ پاؤں پکڑنے والابندش کی رسی کی طرح ہے۔اس پرتکبیر کچھ ضروری نہیں بلکہ وہ اہل تکبیرمیں سے بھی ہوناضروری نہیں،اگرمشرک یامجوسی ہوجب بھی ذبیحہ میں فرق نہ آئے گا‘‘۔

(فتاوی رضویہ ،ج20،ص221)

(قربانی کے احکام از شیخ الحدیث مفتی عرفان احمد عطاری مدنی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے