کسی کو نا دیکھنے کی قسم کھانا کیسا

سوال:بیوی نے غصے کی حالت میں آسمان کی طرف منہ کر کے اپنے شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے  یہ قسم کھائی  کہ اللہ تعالیٰ کی قسم میں نہ تمہارا منہ دیکھوں گی اور نہ ہی تم سے بات کروں گی تو اب دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو کیا کرنا ہوگا اور اس سے کیا نکاح ٹوٹ گیا؟

جواب:دریافت کردہ صورت میں نکاح پرتو کوئی اثر واقع نہیں ہوا ،دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں،ایک دوسرے کو دیکھنا چاہیں یا بولنا چاہیں ، تو یہ سب  کام  کر سکتے ہیں ،صرف اتنا ہے کہ عورت کے دیکھ لینے اور بات کر لینے کے بعد قسم کا کفارہ دینا لازم ہوگا اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کودو وقت کاکھاناکھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دے اگر یہ دونوں کام کرنے کی استطاعت نہیں تو تین روزے رکھے۔اورکھانے کی جگہ یہ رعایت بھی موجودہے کہ دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۂ فطر کی مقدار میں رقم دے دی جائے،لیکن رقم کی ادائیگی میں یہ خیال رکھاجائے کہ اگرایک فقیر کوایک ہی دن دس صدقہ فطر کی مقدار دے دی تویہ ایک ہی دن  کے کھانے کے برابر کہلائے گا ،بقیہ 9دن کے  صدقہ فطر کی مقدار دینا باقی رہے گا۔

ایک ہی رمضان میں 2 روزہ ٹوٹ جائے اوران کفارہ ادا کرنا ہے،کیا کفارے بھی 2 ادا کرنے ہو گے ؟

(دعوت اسلامی)

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے