سوال: پنجاب کے اکثرگھروں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اگرکسی عورت کا حمل ضائع ہوجائے تو دوسری عورتیں اس کے قریب نہیں آتی،بقول ان کے کہ اگر کوئی لڑکی اس کے قریب گئی اوراس پراس عورت کا سایہ پڑ گیا تو وہ بانجھ ہوجائے گی یا صرف اس سے بچیاں پیدا ہوں گی وہ بچہ پیدا نہیں کرسکے گی اس طرح کی بہت باتیں اکثر گھرانوں میں پائی جاتی ہیں،کیاقرآن اورحدیث میں اس کا کوئی ثبوت ہے یا یہ سب جہالت ہے؟+
جواب:سوال میں بیان کردہ اعتقادکی شریعت میں کوئی اصل نہیں،بلکہ ایساخیال رکھنابدشگونی ہے اوربدشگونی لینامسلمانوں کاشیوہ نہیں،یہ توغیرمسلموں کاطریقہ ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بارارشادفرمایاکہ بد شگونی شرک (یعنی مشرکوں کاسا کام)ہے اورہمارے ساتھ اس کاکوئی تعلق نہیں،اللہ تعالٰی اسے توکُّل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔
لہذا ہر مسلمان کو بدشگونی سے بچنالازم ہے۔