فاسق سے نکاح کا رشتہ جوڑناکیسا؟

سوال: مجھے گناہوں سے نفرت ہے اور میں نماز پڑھنے والی ہوں اور فلموں ڈراموں اور فیشن سے بچتی ہوں اور اس سے سخت نفرت ہے،میرے والدین میرا رشتہ ایسے لڑکے سے کرنا چاہتے ہیں جو دنیا دار ہے  اوران چیزوں کی پرواہ نہیں کرتا،لہذا اس صورت حال میں کیا کروں؟.

جواب: بیٹی  جوان ہوجانے پر والدین کی ذمہ داری ہے کہ اس کی ایسے  نیک  صالح پرہیزگار لڑکے سے شادی کرے جو اس سے نسب یاپیشہ یاچال چلن وغیرہ میں ایساکم نہ ہوکہ اس سے نکاح عورت کے اولیاء (باپ ،دادا وغیرہ ) کے لئے بے عزتی ورسوائی کاسبب ہو اور اس معاملے میں ذرا بھی غفلت نہ برتے کہ نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عالیشان  ہے کہ اپنی اولاد کے نکاح میں کوتاہی برتنے والوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے ۔لہذا مناسب غور وفکر کے ساتھ بیٹی کا رشتہ طے نیک صالح پرہیز گار سے کریں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمايا:”نکاح کرنا عورت کوکنیز بناناہے،لہٰذا غور کر لینا چاہيے کہ وہ اپنی بيٹی کو کہاں بياہ رہا ہے۔”

خصوصا اس صورت میں کہ جب بیٹی نیک پرہیزگار اور لڑکا فاسق فاجر ہو  اورلڑکی فاسق لڑکے سے نکاح کرنے پر راضی نہ ہوکہ یہ بیٹی کے ساتھ غلط ہے اور قطع رحمی کرنے کی طرح ہے چنانچہ رحمتِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمان عاليشان ہے ”جس نے اپنی بيٹی کا نکاح کسی فاسق سے کيا ا س نے قطع رحمی کی۔” 

لہذا آپ اپنے والدین کو سمجھانے کی کوشش کریں اور  دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ کریں،گھر میں  مدنی چینل چلائیں کہ مدنی چینل اصلاح کا بہترین ذریعہ اور روحانی علاج کے لئے دعوت اسلامی کے شعبہ ’’تعویزات عطاریہ ‘‘سے رابطہ کریں ۔

اگر والدین راضی نہ ہوں اور وہیں نکاح کرنے پر مُصر ہوں تو اگر وہ لڑکا سنی صحیح العقیدہ ہے تو اس سے نکاح کرنا جائز ہے۔

(دعوت اسلامی)

ماء مشکوک کسے کہتے ہیں ؟

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے