عشره مُبشره کا مُختصر تعارف

عشره مُبشره کا مُختصر تعارف

*عشره مُبشره کا مُختصر تعارف*

ان 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ذکر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہہ حدیث میں ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ میرے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات شاہ لولاک فخر موجودات حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا کہ :

” ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں … ”
(سنن ترمذی حدیث نمبر 3682)

میرے دوستو! حدیث میں سعد سے مراد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ اور سعید سے مراد سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ ہاں اپنے ناقص مطالعہ کے مطابق یہ کم فہم فرحان ہہ بات واضح کرتا چلے کہ جو فتح مکہ کے بعد اسلام لایا ہو ایسا کوئی نام صحاح ستہ میں عشرہ مبشرہ کی فہرست میں نہیں۔ یہ دسوں افراد وہ ہیں جن کی خدمات اسلام میں بےپناہ ہیں سب اس گروہ ِ اہلِ ایمان میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہمراہ ایمان لایا، یہ گروہ وہ تھا کہ ہمیشہ سے حق کی تلاش میں تھا اور بت پرستی سے متنفر بھی، جیسے ہی میرے ماں باپ و آل اولاد محمد ھشام و ایمان مسکانء فاطمہ سے کروڑہا کروڑ گنا زیادہ پیارے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے دعویٰ نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم فرمایا، انہوں نے اسلام قبول کر لیا …

● حضرت ابوبکر صديق رضی اللہ تعالٰی عنہ :

واقعہ فیل کے تین برس بعد آپ کی مکہ میں ولادت ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت پر سرکار دو عالم نور مجسم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم سے مل جاتا ہے۔ آپ کا نام پہلے عبدالکعبہ تھا جو رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے بدل کر عبداللہ رکھا، آپ کی کنیت ابوبکر تھی۔ آپ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام عثمان بن ابی قحافہ اور والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی تھا۔ آپ کا خاندانی پیشہ تجارت اور کاروبار تھا۔ مکہ میں آپ کے خاندان کو نہایت معزز مانا جاتا تھا۔ کتب سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعث سے قبل ہی آپ کے اور رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دوسرے کے پاس آمدرفت، نشست و برخاست، ہر اہم معاملات پر صلاح و مشورہ روز کا معمول تھا۔ مزاج ميں یکسانیت کے باعث باہمی انس ومحبت کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ بعث کے اعلان کے بعد آپ نے بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنے مال و دولت کو خرچ کر کے مؤذن رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم حضرت بلال سمیت بے شمار ایسے غلاموں کو آزاد کیا جن کو ان کے ظالم آقاؤں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں سخت ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ آپ کی دعوت پر ہی حضرت عثمان، حضرت زبیر بن العوام، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن وقاص جیسے اکابر صحابہ ایمان لائے جن کو بعد میں دربار رسالت سے عشرہ مبشرہ کی نوید عطا ہوئي۔ صدیق اور عتیق آپ کے خطاب ہیں جو آپ کو دربار رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم سے عطا ہوئے۔ آپ کو دو مواقعوں پر صدیق کا خطاب عطا ہوا، اول جب آپ نے نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی بلاجھجک تصدیق کی اور دوسری بار جب آپ نے واقعہ معراج کی بلاتامل تصدیق کی، اس روز سے آپ کو صدیق اکبر کہا جانے لگا۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ کرام کے مشورے سے آپ کو جانشین رسول مقرر کیا گیا.آپ کی تقرری امت مسلمہ کا پہلا اجماع کہلاتی ہے۔ عہد خلافت میں آپ کے زریں کارناموں میں ایک قرآن پاک کو یکجا کرکے ایک مصحف کی تشکیل کرنا ہے 22 جمادی الثانی 13 ہجری بمطابق 23 اگست 634ء کو آپ نے 63 برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی …

● حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ :

پیدائش 586ء بمطابق 37 ق ھ یا 590ء بمطابق 33 ق ھ ہے۔ آپ کا نام مبارک عمر ہے اور لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں میرے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم نور مجسم سرور دو عالم حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ مکہ میں پیدا ہوۓ اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ و وآلہ وسلَّم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لے آپ کو مرادِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم بھی کہا جاتا ہے۔ آپ دوسرے امیر المومنین تھے۔ آپ کا عہد 23 اگست 634 بمطابق 12ھ سے 590ء بمطابق 23ھ رہا۔ آپ کی وفات 7 نومبر 644ء بمطابق 23ھ ہوئی، جب ایک غلام ابو لولو فیروز نے آپ کو فجر کی نماز میں مسجد نبوی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا …

● حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ :

آپ کی پیدائش 576ء بمطابق 47 ق ھ مقام طائف، عرب میں ہوئی۔ آپ قریش کی ایک شاخ بنو امیہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پہلے اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ ایک خدا ترس اور غنی انسان تھے۔ آپ فیاض دلی سے دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ اسی بنا پر حضور اکرم نور مجسم سرور دو عالم جناب رسالت مآب حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔ ذوالنورين آپ کا اعزاز تھا جس کا مطلب ہے دو نور والا۔ آپ کو اس لئے ذوالنورين کہا جاتا ہے کیونکہ رسول اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ و وآلہ وسلَّم کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں یہ وہ واحد اعزاز ہے جو کسی اور کو حاصل نہ ہو سکا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آپ نے 11 نومبر 644ء بمطابق 23ھ 17 جولائی 656ء بمطابق 35ھ تک خلافت کی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی وفات سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین، یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اس کمیٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ آپ نے بارہ سال خلافت کی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ آپ کے دور خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا کافی علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ آپ کی شہادت17 جولائی 656ء بمطابق 35ھ اکرم اور عمر تقریباً 76، 77 برس تھی، اور مقام وفات مدینہ منورہ، عرب اور مقام تدفین جنت البقیع، مدینہ منورہ ہے۔ آپ کی شہادت پر جو فتنہ پیدا ہو وہ اسلام کا پہلا فتنہ سمجھا جاتا ہے …

● حضرت علی کرم اللہ وجیہ الکریم :

حضرت علی ابو طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ 599ء بمطابق 23 ق ھ رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ کی اندر پیدا ہوۓ۔ آپ کے والد کا نام ابو طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالٰی عنہما ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پیغمبر اسلام حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ بچپن میں میرے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے گھر آۓ اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی۔ میرے علی کرم اللہ وجہہ الکریم پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کا اظہار کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریبا دس یا گیارہ سال تھی۔ آپ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہما کے شوہر تھے۔ جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو میرے نبی اکرم نور مجسم سرور کل عالم حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنا دنیا و آخرت میں بھائی قرار دیا اور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا ( مددگار سرپرست ) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات شاہ لولاک فخر موجودات حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں احادیث نبوی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے بارے میں نہیں ملتے۔ مثلاً آنحضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے یہ الفاظ کہ :
” علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ”

کبھی یہ کہا کہ :

"میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے”

کبھی یہ فرمایا کہ :

” تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے ”

کبھی یہ فرمان عالیشان ہوا کہ :
” علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون علیہ السّلام کی موسیٰ علیہ السّلام سے تھی ”

کبھی یہ فرمایا کہ :
” علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے … ”

میرے دوستو! میرے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی تجہیز و تکفین اور غسل و کفن کا تمام کام حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہی کے دست مبارک سے ہوا اور قبر انور میں بھی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی نے میرے رسول اکرم نور مجسم سرور دو عالم جناب رسالت مآب حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کو اتارا۔ 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کا منصب حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے پیش کیا، آپ نے پہلے انکار کیا، لیکن جب مسلمانوں کا اصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظور کیا کہ میں بالکل قران اور سنت ُ پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا۔ مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی۔ مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا، آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے ذائل ہونے کا خطرہ تھا۔ آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنا اپنا فرض سمجھا اور جمل و صفین اور نہروان کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں، جن میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسی شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر واحد و خندق و خیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی۔ آپ کی شہادت 28 جنوری 660ء میں 62 سال کی عمر میں کوفہ میں ہوئی تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ دو روز تک حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے۔ آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ و حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تجہیز و تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔ آپ کے بچوں کی تعداد 28 سے زیادہ تھی۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالٰی عنہما سے آپ کو دو فرزند پیدا ہوئے۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ، جبکہ ایک صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہما بھی حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے تھیں۔ آپ کی اولاد و بنات میں حضرت حنیفہ، عباس، حسن، حسین، زینب، ام کلثوم، عباس، عمر ابن علی ۔ جعفر ابن علی، عثمان ابن علی، محمد الاکبر (محمد بن حنفیہ)، عبداللہ، ابوبکر، رقیہ، رملہ، نفیسہ، خدیجہ، ام ہانی، جمانی، امامہ، مونا، سلمیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں …

● حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ :
پیدائش 595ء مکہ، تاریخ وفات 656ء۔ طلحہ مکمل نام طلحہ بن عبید اللہ اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک اور حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابی تھے۔ آپ بھی عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔ غزوہ احد اور جنگ جمل میں انکا خاص کردار رہا۔ مروان بن الحکم کا منصوبہ یہ تھا کہ کسی طرح ان لوگوں کو لڑا دیا جائے اور پھر اقتدار پر قبضہ کر لیا جا ئے۔ وہ اس میں کامیاب رہا اور پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی ملاقات جمل کے میدان جنگ ہوئی۔ جب حضرت زبیر اور حضرت علی کا آمنا سامنا ہوا تو انہوں نے ان کو وہ واقعہ یاد دلایا کہ ایک دن حضرت زبیر اور حضرت علی ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈالے ہوئے کہیں سے آرہے تھے، کہ حضور اکرم نور مجسم سرور دو عالم جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم راستے میں مل گئے تو انہوں حضرت زبیر سے پوچھا کہ :

” زبیر تم علی کو بہت چاہتے ہو …؟ ”

انہوں نے فرمایا :
جی ہاں یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم

تو حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا کہ :
” ایک دن تم دونوں آمنے سامنے ہو گے اور علی حق پر ہونگے … ”

یہ سنتے ہی انہیں پورا واقعہ یاد آگیا تو وہ یہ کہتے ہوئے بغل گیر ہو گئے کہ :
اگر آپ یہ مجھے پہلے بتا دیتے تو یہ نوبت نہ آتی

پھر وہ حضرت طلحہ اور اپنے بیٹے عبد اللہ بن زبیر کو اطلاع دینے گئے۔ حضرت طلحہ نے بات مان لی اور جنگ سے ہاتھ روک لیا حضرت طلحہ کی شہادت کے سلسلہ میں دو روایات ملتی ہیں، ایک تو یہ ہے کہ وہ میدان جنگ میں ایک طرف کھڑے ہوئے سوچ رہے تھے کہ مروان نے انہیں شہید کرا دیا اور دوسری یہ ہے کہ مروان نے خود تیر مار کر شہید کر دیا (واللہ تعالٰی اَعلَم)۔ میرے دوستو! یہ ١٠جماد الثانی ٣٦ ھ تھی جب انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ اس وقت ان کی عمر ساٹھ سال تھی۔ ابن ِ کثیر رح لکھتے ہیں کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہ کا پلہ بھاری ہو گیا اور اللہ نے ان کو فتح دی تو انہیں دونوں طرف کے مقتولین کی تہجیز اور تدفین کے دوران حضرت طلحہ کی میت ایک گڑھے میں انہیں پڑی ہوئی ملی، انہوں نے پہچانا اور اپنے ہاتھ سے ان کے چہرے سے مٹی صاف کی اور فرمایا کہ :
” اے ابو محمد! اللہ کی تم پر رحمت ہو تمہارا سیرگان ِ فلک کے نیچے اس طرح پڑا ہونا مجھے بہت شاق گزرا … ”

حضرت طلحہ کو وہیں میدان ِجنگ کے قریب دفنادیا گیا۔ اور وہ کافی عرصہ تک وہیں مدفون رہے۔ لیکن جب کہ حضرت ابن ِ عباس بصرہ پر گورنر تھے تو انہوں نے تین دن تک ایک خواب دیکھا کہ حضرت طلحہ کہہ رہے ہیں کہ :
مجھے پانی تنگ کر رہا ہے لہذا مجھے یہاں سے نکالو
تو انہوں نے دس ہزار درہم میں بصرہ میں ایک مکان خرید کر ان کو وہاں منتقل کر دیا جب ان کی قبر کھولی گئی تو ان کا جسم برآمد ہوا اور قبر میں پانی بھرا ہوا تھا اور وہ حصہ سیاہ ہو گیا تھا جو پانی میں رہا تھا جبکہ بقیہ حصہ جسم اسی حالت میں تھا جیسے کہ وہ شہادت کے وقت تھے۔ ان کے سلسلہ میں بہت سی حدیثیں ملتی ہیں۔ ان میں دو بہت مشہور ہیں ایک تو یہ کہ حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا کہ :
جو چلتا پھرتا شہید دیکھنا چاہے وہ طلحہ کو دیکھ لے …

دوسری یہ ہے کہ :
” طلحہ اور زبیر جنت میں ہمسایہ ہوں گے ”

● حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ :
آپ کی تاریخ پیدائش 580ء مکہ، جب کہ تاریخ وفات 654ء یا 656ء اور عمر 74 یا 76 سال ہے۔ آپ عبدالرحمن بن عوف حضرت محمّد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابی تھے۔ حضرت عبدالرحمٰن کو یہ اسم ِ مبارک بھی عطائے رسول ہے کیونکہ عہد جاہلیہ میں ان کا نام عبد امر تھا۔ جس کو تبدیل فرما کر حضور نے عبدالرحمٰن عطا فرمایا تھا۔ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کی حضرت سعد بن ربیع انصاری کے ساتھ مواخاة کرا دیا تھا اور بھائی بنا دیا تھا۔ ان کا حلیہ ابن ِ کثیر نے لکھا ہے کہ وہ سرخ سفید رنگ کے مالک تھے، چہرہ انتہائی حسین کھال غیر معمولی طور پر باریک، بڑی آنکھیں، پلکیں لمبی اور گھنی، ناک اونچی، جسم پر بال باکثرت، ہتھیلیاں بھری ہوئی اور انگلیاں پرگوشت تھیں۔ انہوں نے پچھتر سال کی عمر میں ٢٣ ہجری میں انتقال فرمایا اور اپنے پیچھے اتنا سونا چھوڑا جو کہ کلہاڑوں سے توڑا گیا اور مزدوروں کے ہاتھ میں چھالے پڑ گئے، اس کے علاوہ ایک ہزار اونٹ، ایک سو گھوڑے اور تین سو بکریاں چھوڑیں اور چار بیویاں سوگوار چھوڑیں جن کو ترکہ میں سے شرع مطابق آٹھواں حصہ ملا تھا جو چار جگہ تقسیم ہونے کے باوجود ہر ایک کے حصہ میں اسی ہزار آئے۔ جبکہ تمام غلاموں کو انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے ہی آزاد کر دیا تھا اور جاتے جاتے ایک باغ فروخت کر کے حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کے خاندان میں تقسیم کر دیا …

● حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ :
فاتح ایران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو زہرہ سے تھا جو حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کا ننھیالی خاندان ہے اس لیے آپ رشتے میں حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے ماموں زاد بھائی تھے۔ حضرت حمزہ کی والدہ آپ کی سگی پھوپھی تھیں۔ ہجرت مدینہ سے تیس برس پہلے پیدا ہوئے۔ نزول وحی کے ساتویں روز حضرت ابوبکر کے ترغیب دلانے پر مشرف بااسلام ہوئے۔ اور عمر بھر حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے محافظ خصوصی کے فرائض انجام دیئے۔ سعد بن ابی وقاص بہت مضبوط جسم کے انسان تھے۔ قد چھوٹا ہونے کے باوجود رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کا بڑا سر آپ کے مدبر ہونے کی غمازی کرتا تھا اور مضبوط انگلیاں قوت بازو کی شاہد تھیں۔ تیر اندازی میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ اسلام کی خاطر سب سے پہلے کسی کافر کا خون بہانے کا شرف آپ کو حاصل ہوا۔ جب دور ابتلاء میں کفار نے نبی اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم پر حملہ کرنا چاہا تو ایک مردہ اونٹ کی ہڈی سے دشمنوں پر حملہ کرکے ان میں سے ایک کو لہولہان کردیا اور باقی سب بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں پہل کرنے والوں میں سے تھے۔ اور انتظامی صلاحیت کی وجہ سے آپ کو بنو ہوازن کا عامل مقرر کیا گیا۔ اس منصب پر آپ کئی سال فائز رہے۔ سعد بن ابی وقاص اور ان کا خاندان ذوق جہاد میں بہت ممتاز تھے۔ غزوہ بدر میں آپ کے کم عمر بھائی عمیر نے اصرار کرکے شرکت کی اجازت لی اور معروف پہلوانعمرو بن عبدود کے ساتھ مقابلہ کرکے جام شہادت نوش کیا۔ سعد نے قریش کے ناقابل شکست سردار سعد بن العاص کو جہنم رسید کیا اور تین کافروں کو باندھ کر حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں پیش کیا۔ غزوہ احد میں آپ نے تیر اندازی سے حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی اس وقت تک حفاظت کی، جب مسلمان تیر اندازوں کے پشت سے ہٹ جانے کے سبب خالد بن ولید کے دستے نے عقب سے حملہ کرکے بہت نازک صورت حال پیدا کر دی تھی۔ اس موقعہ پر حضور فرما رہے تھے :
سعد تجھ پر میرے ماں باپ قربان تیر چلاتے جاؤ

غالباً اس انداز سے میرے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے کسی اور صحابی کو کبھی مخاطب نہیں کیا۔ سعد بن ابی وقاص نے غزوہ خندق میں بھی داد شجاعت دی۔ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے تین صحابہ کو علمبردار مقرر کیا جن میں سے ایک سعد بن ابی وقص بھی تھے۔ غزوہ حنین میں شرکت کا شرف بھی آپ کو حاصل تھا۔ فتح خیبر میں بھی آپ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے ہم رکاب تھے اور غزوہ حنین میں بھی آپ کا خاص اعزاز یہ تھا کہ خطرناک ترین حالات میں آپ کو رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی جاتی حجۃ الوداع کے موقع پر اتنے بیمار ہوگئے کہ صحت یابی کی امید نہ رہی۔ حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے دعا فرمائی، چہرے اور شکم پر دست مبارک پھیرا اور آپ صحت یاب ہوگئے۔ اس موقعہ پر آپ کے دعائیہ کلمات آپ کے فاتح قادسیہ ہونے کی پیش گوئی کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فریایا :
” سعد شاید خدا تم کو بستر سے اٹھائے اور تم سے کچھ لوگوں کو فائدہ اور کچھ کو نقصان پہنچے … ”

آپ نے اس موقعہ پر اپنا سارا مال صدقہ کر دینا چاہا لیکن حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے صرف ایک تہائی صدقہ کرنے کی اجازت دی۔ آپ کی زندگی کا بہت عظیم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اس نازک وقت میں اسلامی لشکر کی قیادت کی جب ایران کے محاذ کی صورت بہت تشویشناک تھی۔ جسر کی جنگ میں ابوعبیدہ ثقفی شہید ہو گئے تھے۔ ایران میں نوجوان بادشاہ یزد گرد نے اقتدار سنبھال کر ایران کی فوجی حمیت کو اپیل کی تھی اور ایک لشکر جرار تیار کرکے اسلامی سلطنت پر حملہ آور ہونے کے احکامات جاری کیے تھے …

● حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالٰی عنہ :
آپ کی پیدائش 581ء اور وفات 639ء میں ہوئی۔ حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ جنہیں دربار رسالت مآب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم سے امین الملت کا خطاب ملا قبیلہ فہر سے متعلق تھے۔ جو قریش کی ایک شاخ تھی۔ اصل نام عامر بن عبداللہ تھا۔ ہجرت مدینہ کے وقت عمر 40 سال تھی۔ بالکل ابتدائی زمانے میں مشرف با اسلام ہوئے۔حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا کہ :
ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے میری امت کا امین ابوعبیدہ ہے …

دیگر مسلمانوں کی طرح ابتدا میں قریش کے مظالم کا شکار ہوئے۔ حضور سے اجازت لے کر حبشہ ہجرت کر گئے لیکن مکی دور ہی میں واپس لوٹ آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چند روز قبل اذن نبی سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضور کی آمد تک قبا میں قیام کیا۔ مواخات مدینہ میں معززانصاری صحابی ابوطلحہ کے بھائی بنائے گئے ۔ بے مثال خدمات اسلام کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جن صحابہ کو دنیا میں جنت کی بشارت دی ان سے ایک ہیں۔ بوعبیدہ ابن الجرح بے حد ذہین ۔ سلیم الطبع ، متعقی اور بہادر تھے۔ لمبا قد ، بظاہر لاغر کمزور نظر آنے والی شخصیت لیکن ایمان کامل کے سبب انتہائی پرنور چہرہ اور آہنی عزم کے مالک۔ ابوعبیدہ بن الجراح نے اپنے زمانے کے سب سے بڑی عالمی طاقت روم کے خلاف ٹکر لی اور اسے ایشائی علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا۔ مدینہ کی اسلامی ریاست قائم ہوئی تو ابوعبیدہ ان اکابرین میں سے تھے جن کو ہر نوعیت کا کام سونپا جا سکتا تھا۔ غزوات میں ابوعبیدہ کی خدمات جلیلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور عشق رسول اور اطاعت الٰہی کا حق ادا کر دیا۔ غزوہ بدر میں اپنے باپ عبداللہ بن الجراح کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ قرآن پاک کی ایکآیات آپ ہی جیسے صحابہ کے لیے نازل ہوئی تھی جس میں اللہ تعالٰی باپ، بیٹے ، بھائی اور اہل خاندان کے خلاف قتال کی وجہ سے جنت کی بشارت دی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ غزوہ احد میں ابوعبیدہ بن الجراح افراتفری کے عالم میں بھی ثابت قدم رہنے والے صحابہ میں سے تھے۔ جب ایک کافر کے وار سے حضور کے خود کی کڑیاں آپ کے رخسار میں دھنس گئیں تو آپ نہایت سرعت سے آگے بڑھے اور اپنے دانتوں سے ان کڑیوں کو باہر نکالا اور اس آپریشن میں خود آپ کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ غزوہ احزاب میں ابوعبیدہ بن الجراح نے ایک مستعد اور بہادر سپاہی کی حیثیت سے شرکت کی اور اس کے بعد بنو قریظہ کے استیصال میں حصہ لیا۔ غزوہ احزاب کے بعد بنو ثعلبہ اور بنو انمار کی غارت گری کے انسداد پر مامور ہوئے اور ان کے مرکز ذی القصہ پر کامیاب چھاپہ مارا صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شامل ہو کر اللہ تعالٰیٰ کی رضا حاصل کی۔اور غزوہ خیبر میں بھی نبی کریم کے ان فدایوں میں سے شامل تھ جنہوں نے اپنی شمشیر زنی کا حق ادا کیا۔ فاتح شام اور فاتح بیت المقدس کی شان فقر کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ جب فاروق اعظم بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے بھائی ابوعبیدہ بن الجراح سے فرمائش کرکے ان کے ہاں کھانا کھایا جس میں صرف چند سوکھے ہوئے ٹکڑے تھے جن کو ابوعبیدہ پانی میں بھگو کر کھایا کرتے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا ”شام میں آکر سب ہی بدل گئے لیکن ابوعبیدہ ایک تم ہو کہ اپنی اسی وضع پر قائم ہو۔ایک اور موقع پر فاروق اعظم نے آپ کے بارے میں فرمایا :”الحمد اللہ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی نظر میں سیم و زر کی کچھ حقیقت نہیں۔ 18 ھ میں مسلمانوں کے لشکر میں طاعون کی وبا پھوٹ نکلی جسے عمواس کی طاعون کہا جاتا ہے۔ اس موذی وبا نے مسلمانوں کی جان لے لی ان میں سے ایک سپہ سالار اعظم امین الملت ابوعبیدہ بھی تھے۔س طرح اٹھاون برس کی عمر میں یہ تاریخ ساز شخصیت مالک حقیقی سے جا ملی۔

● حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ :
پیدائش 593ء اور وفات 673ء۔ سعید بن زید حضرت محمّد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابی تھے۔ حضرت سعید کا شجرہ نسب۔ سعید بن زید بن عمربن نفیل بن عبد العزیٰا لقرشی العدوی تھا اور کنیت ابو العوریا ابو ثور تھی ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت بعجہ ملیح تھا جو قبیلہ الخزاعیہ سے تھیں۔ آپ مستجاب الد عوات صحابہ کرام میں سے تھے۔ یہ عشرہ مبشرہ کے آخری فرد اور اس حدیث کے راوی بھی ہیں۔ جو اس طرح ہے کہ حضور اکرم نور مجسم سرور دو عالم حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ نے فرمایا کہ :
” ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، ابوعبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں … ”

کہ اتنے میں حضرت سعید بن زید کھڑے ہوئے اور انہوں نے درخواست کی کہ :
” حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم میرے لیے بھی دعا فرمائیے … ”

تو میرے ماں باپ و آل اولاد محمد ھِشام و ایمان مسکانِ فاطمہ سے کروڑہا کروڑ گنا زیادہ پیارے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کو بھی جنت کی بشارت دیدی۔ میرے پیارو! اس کے بعد محفل میں موجود تمام صحابہ کرام اٹھ کھڑے ہوئے اور دعا کی درخواست کر نے لگے، تو حضور اکرم نور مجسم سرور کل عالم جناب رسالت مآب حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا کہ :
” سعید تم سب پہ بازی لے گئے ”

یہ روایت مدنی ہے اور مدینہ کے بھی اولین دور کی۔ ایک خصوصیت اور بھی تھی کہ انہوں نے ایسے باپ کے زیرِ تربیت پرورش پائی، جو بت پرستی کے خلاف تھے یعنی بت پرستی کی مخالفت انہیں وراثت میں ملی تھی۔ اس پر گواہ حضرت اسماء بنت ابوبکر ہیں جن سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ حضرت سعید کے والد حضرت زید بن عمر حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے دعویٰ نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم سے پہلے دیوار ِ کعبہ سے تکیہ لگائے تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے کہ :
لا اکل ماذبح لغیر اللہ ما احد علیٰ دین ابراہیم غیری
(جو غیر اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کیا گیا ہو وہ میں نہیں کھاتا، میرے سوا اس وقت کوئی دینِ ابراہیم پر نہیں ہے)

جبکہ انہیں سے ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ وہ قریش کو لڑکیوں کے قتل سے منع فرماتے تھے اور وہ خود ان سے لیکر لڑکیوں کو پرورش فرماتے اور جب ان کی پرورش ہو جاتی تو پھر ان سے پوچھتے کہ تم چاہو تو میں ان کی شادی کردوں یا تم واپس لے لو۔ اور قریش کو اس پر لعن طعن کرتے کہ بکری کے لیے پانی بر ساکر رزق اللہ فراہم کرتا ہے، جبکہ تم اس کو ذبح بتوں کے نام پر کرتے ہوئے۔ ابن ِ کثیر کے مطابق آپ کا انتقال ٧٠ سے چند سال اوپر کی عمر میں بمقام عقیق ہوا اور انکا جنازہ کاندھوں پر اٹھا کر مدینہ لایا گیا، جبکہ ابن ِ کثیر نے ان کی وفات کوفہ میں تحریر کی ہے واللہ تعالٰی اَعلَم۔ وجہ انتقال مرض ضعیفی تھا جس میں انہوں نے طبی موت پائی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے ان کو غُسل دیا اور انہوں نے اور حضرت عبد اللہ بن عمر نے قبر میں اتارا …

*جلال الدین خوارزم شاہ*

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے