سوال: طعامِ سحری کا جب وقت نہیں رہتا ہے تو درِ مسجد پرنقارہ بجایا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ جائز ہے اوربعض کہتے ہیں ناجائز ہے، اس میں کیا حکم ہے؟
الجواب
سحری کا نقارہ اجازت یا ممانعت جس اصطلاح معروف پر مقرر کیا جائے اجازت ہے کہ کہیں ممانعت نہیں،
درمنتقی شرح الملتقی میں ہے: ینبغی ان یکون بوق الحمام یجوز کقرب النوبۃ۱؎۔ حمام کا تُوتا جائز ہوناچاہئے جیسا کہ نقّارہ جائز ہے(ت)
(۱؎درمنتقی علی حاشیۃ مجمع الانہر فصل فی المتفرقات من کتاب الکراھیۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۵۳)
ردالمحتار میں ہے: ینبغی ان یکون طبل السحر فی رمضان لا یقاظ النائمین للسحور کبوق الحمام تامل۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
رمضان میں سحری کے وقت سونے والوں کو جگانے کے لیے طبل اسی طرح ہے جیسے حمام کے لیے تو تابجایاجاتا ہے، غور کیجئے، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
( ۲؎ ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مصطفی البابی مصر ۵ /۲۴۷)