روزہ کی قضا کا کیا حکم ہے

سوال: آج سے تقریباً17 سال پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں،میں روزے سے تھی، اسی دوران مجھے اپنے گاؤں سے شہر خریداری کے لیے جانا پڑا، راستے میں میری ایک جاننے والی نے کہاکہ روزے توڑ دو میں بھی سوچی کہ چلو خریداری کرنے میں تھک جاؤں گی ویسے بھی میں مسافرہوں اس لیے میں نے روزہ توڑ دیا،اب مجھے پتہ چلا کہ میں مسافر نہیں تھی کیونکہ جس شہر میں،میں گئی تھی وہ جگہ ہمارے یہاں سے تقریباً 80 کلومیٹر ہے، 92 کلومیٹر نہیں ہے، اس صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے، کیامجھ پر  قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم  ہے ۔اگرکفارہ ہوتواس کی کیا صورت ہوگی تفصیل سے بیان فرمائیں۔

جواب:پوچھی گئی صورت میں قضاکے ساتھ ساتھ کفارہ اداکرنابھی لازم ہے۔

روزے کے کفارے میں اولاً حکم تو یہی ہے کہ ایک غلام آزاد کرے اگر یہ نہ ہوسکے جیسا کہ ہمارے زمانے میں ہے تو پھر حکم یہ ہے کہ ساٹھ روزے ایک ساتھ رکھے ۔اور اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلائے لیکن کھلانا اسی وقت درست ہوگا جب کہ ساٹھ روزے پے درپے رکھنے کی قوت نہ ہو اور اگر قوت ہے تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔نیز یہ بھی ضروری ہے کہ جن مسکینوں کو ایک وقت کھلایا ہے انہی کو دوسرے وقت میں کھلانا ضروری ہے دوسروں کو کھلانے سے کفارہ ادا نہ ہوگا ۔

اورکھانے کی جگہ یہ رعایت بھی موجودہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی بجائے اس کی رقم بھی دی جاسکتی ہے اس کاطریقہ یہ ہے کہ یاتو ساٹھ مسکینوں کو  صدقہ فطر کی مقداررقم دے دے یا ایک  مسکین کو ساٹھ دن صدقہ فطر کی مقدار رقم دے دے تو اس کا کفارہ ادا ہوجائے گا ۔یاد رہے کہ اگر ایک ہی دن ،ایک ہی مسکین کو  ساٹھ صدقہ فطر کی مقدار ادا کر دئے تو ایک ہی دن کا یہ صدقہ فطر کہلائے گا بقیہ انسٹھ  دنوں کا دوبارہ علیحدہ علیحدہ ہر دن صدقہ فطر ادا کرنا ہوگا۔

About darulfikar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے